سعودی عرب نے بھی تاریخ کی پہلی ڈراؤنی فلم بنا لی

ریاض(نیوزڈسک) سعودی عرب میں گزشتہ چند سالوں سے ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے دہائیوں سے عائد پابندیاں ہٹا کر اسے معتدل معاشرہ بنایا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے تحت مملکت میں فلموں کی نمائش اور میوزک کانسرٹس کی بھی اجازت دے دی گئی ہے۔ سعودی عرب میں کئی فلمیں بننا شروع ہو گئی ہیں۔ تاہم سعودی فلمسازوں نے سعودی تاریخ کی پہلی ہارر فلم بھی بنا لی ہے جسے مملکت کے سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کر دیا گیا۔

پہلی ڈراؤنی فلم ”بونویرہ“ نجی سرمایہ کاری سے تیار کی گئی ہے، جس کے تمام اداکار اور اداکارائیں نئے ہیں۔ فلمساز عبداللہ ابوالجدایل کا کہنا تھا کہ یہ فلم سعودی سماج سے ہی تعلق رکھتی ہے۔ اسے بین الاقوام معیار کے مطابق بنانے کی کوشش کی گئی ہے جس کی پروڈکشن اور مکالمے بہت عمدہ ہیں۔

عرب عوام ڈراؤنی فلموں کے شیدائی ہیں، مگر عرب فلم انڈسٹری میں اس طرف بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ اسی کمی کو پورا کرنے کی خاطر ’بونویرہ‘ بنانے کا خیال آیا ہے۔ اُمید ہے کہ فلم سعودی فلم بینوں کو بہت پسند آئے گی۔ اس فلم کی تیاری میں پورا ایک سال لگا ہے۔ جبکہ اداکار بھی سارے نئے ہیں مگر ان میں اداکاری کے جوہر اور صلاحیت بہترین ہے۔

یہ فلم الظہران مال میں دکھائی جا رہی ہے جو سعودی عرب کے بڑے سینما کمپلیکسز میں سے ایک ہے۔ جہاں پر 18 سکرینیں نصب ہیں اور بیک وقت 2,368 افراد مختلف فلموں سے محظوظ ہو سکتے ہیں۔ فلم کی کہانی ایک افسانوی کردار ابونویرہ کی شخصیت کے گرد گھومتی ہے۔ جس کی اپنے پُرانے دوستوں سے صحرائی سفر میں ملاقات ہوتی ہے، اسی دوران بہت سی مشکلات جنم لیتی ہیں جن سے وہ حوصلہ مندی سے نبرد آزما ہوتا ہے۔