ہانگ کانگ کے معاملے پر نئی پابندیاں، چین کی امریکا کو جوابی کارروائی کی دھمکی

چین کا کہنا ہے کہ ہانگ کانگ کے لیے سیکیورٹی کے ذمہ دار عہدیداران پر امریکا کی نئی پابندیاں شہر کے استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔ چین نے ان پابندیوں پر امریکا کو غیر معین جوابی کارروائیوں کی دھمکی بھی دی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے پی‘ کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان زاؤ لی جیان نے کہا کہ چین، امریکا ۔ ہانگ کانگ آٹونومی ایکٹ کی سختی سے مخالفت اور شدید مذمت کرتا ہے، جس کے تحت سیکریٹری خارجہ کانگریس کو ان لوگوں سے متعلق رپورٹ کریں گے جو خطے میں شہری حقوق میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کریں گے۔

رواں سال کی رپورٹ میں چین کی مرکزی حکومت اور ہانگ کانگ کے 10 عہدیداران کو شامل کیا گیا تھا، جس میں ہانگ کانگ کی چیف ایگزیکٹو کیری لام اور پولیس کمشنر کِرس تانگ بھی شامل تھے۔

زاؤ لی جیان نے کہا کہ یہ رپورٹ چین کے اندرونی معاملات میں سراسر مداخلت ہے اور اس سے واشنگٹن کے ہانگ کانگ کی خوشحالی و استحکام اور چین کی ترقی کو کمزور کرنے کے مذموم ارادے ظاہر ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر امریکا اسی راستے پر چلتا رہا تو چین اپنی قومی خود مختاری اور سلامتی مفادات کے تحفظ، چینی کمپنیوں اور متعلقہ عہدیداران کے قانونی حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے سخت جوابی اقدامات اٹھائے گا۔

ان عہدیداران پر پابندیوں میں ویزا پابندیاں اور امریکی مالیاتی اداروں سے ان کے لین دین پر ممکنہ پابندیاں شامل ہیں۔ ان عہدیداران پر چین کی جانب سے ہانگ کانگ میں قومی سلامتی کا قانون نافذ کرنے کے بعد اگست میں بھی ایگزیکٹو آرڈر کے تحت پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مورگن اورتاگس نے پابندیوں کے اعلان کے ساتھ اپنے بیان میں کہا تھا کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا نے قومی سلامتی کا قانون نافذ کرکے ہانگ کانگ میں جمہوری اداروں، انسانی حقوق، عدالتی آزادی اور شخصی آزادی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے پرامن مظاہرین کی گرفتاریوں، چینی سیکیورٹی ایجنٹوں کی خطے میں تعیناتی اور ستمبر میں ہونے والے مقامی اسمبلی کے انتخابات میں سیاسی طور پر تاخیر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ہانگ کانگ سے بیجنگ کی طرف سے 1997 میں کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کے ثبوت ہیں۔