سعودی عرب نے دفاعی شعبے میں اہم معرکہ مار لیا

سعودی عرب گزشتہ کچھ سالوں سے حوثی ملیشیا کے حملوں کی زد میں ہے، جس کے بعد وہ اپنی دفاعی صلاحیت بڑھانے پر خاص توجہ دے رہا ہے۔ سعودی مملکت نے دفاعی شعبے میں اہم کامیابی حاصل کر لی ہے۔ العربیہ نیوز کے مطابق وزارت دفاع اور جنرل اتھارٹی برائے ملٹری انڈسٹریز نے فوجی صنعتوں کو مقامی بنانے کے منصوبے کے تحت مقامی طور پر تیار کی جانے والی پہلی فاسٹ انٹرسیپٹر بوٹ (HSI32) کا افتتاح کر دیا ہے۔

یہ منصوبہ فرانسیسی کمپنی ‘CMN ‘ کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے جس کا مقصد عالمی معیار کی دفاعی کشتیوں اور دیگر آلات کی تیاری کا مقامی سطح پر آغاز کرنا ہے۔دفاعی کشتیوں? کی تیاری کے پروجیکٹ کی افتتاحی تقریب سعودی عرب کے مشرقی خطے میں بحریہ کے کمانڈر انجینئر احمد العوھلی کی موجودگی میں ہوئی۔

اس موقعے پرپورٹ جنرل انورٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل فہد الغفیلی ،زمل گروپ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین ڈاکٹر عبد الرحمن الزمل ، فرانس کے سفیر فرانسو گوئیٹ ، فرانسیسی ملٹری اتاشی اور دیگر اعلیٰ عہدیدار موجود تھے۔ بحریہ کے کمانڈر نے بتایا کہ یہ بوٹ’HSI32 ‘نظام کی تیاری اتھارٹی کی ہدایت کے تحت کام کر رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس اسپیڈ بوٹ سسٹم سعودی بحری افواج کی فوجی اور سیکیورٹی کی تیاری کے لیول کو بڑھانے اور اس کی صلاحیت کو مزید بہتر کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

نیز یہ منصوبہ خطے میں سمندری سیکیورٹی فورس کو مضبوط بنانے اور مملکت کے اہم اور اسٹریٹجک مفادات کے تحفظ میں بھی کردار ادا کرے گا۔انہوں نے مزید نے کہا کہ بوٹ سسٹم کی مقامی سطح پر تیاری ویژن 2030ء کے اسٹریٹجک ہدف کے حصول کی طرف اہم پیش رفت ہے۔ اس منصوبے کی کامیابی کے بعد اس کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے علاوہ فوجی سازو سامان اور دفاعی سروسز کے مزید 50 منصوبوں پرکام شروع کرنے کی راہ ہموار ہو گی۔