دُبئی سے سینکڑوں پاکستانی مسافروں کے ڈی پورٹ ہونے پر پاکستانی قونصل خانے کی کارکردگی پر سوال اُٹھ گئے

دُبئی(نیوزڈسک) دُبئی ایئرپورٹ حکام نے پاکستان سے وزٹ ویزے پر آئے 545 افراد کو ٹریول ایڈوائزی سے متعلق شرائط پوری نہ کرنے پر ڈی پورٹ کرنا شروع کر دیا ہے۔ جس کے باعث یہ مسافر بہت پریشان ہیں کیونکہ ان کا تعلق غریب اور متوسط گھرانوں سے تھا، جو زندگی کو بہتر بنانے کی خواہش میں یہاں پر آئے تھے، مگر بدقسمتی کا شکار ہو گئے اور اب انہیں واپس بھیجا جا رہا ہے۔

اس حوالے سے ایک قومی جریدے کی جانب سے دعویٰ کیاجا رہا ہے کہ ان سینکڑوں پاکستانیوں کے ڈی پورٹ ہونے کی ذمہ داری دُبئی میں واقع پاکستانی قونصل خانے پر عائد ہوتی ہے، جس نے اماراتی حکومت کی جانب سے نئی ٹریول ایڈوائزی جاری ہونے کے بعد پی آئی اے اور پاکستانی حکومت کو نئی سفری شرائط کے بارے میں بروقت اطلاع نہیں دی جس کا خمیازہ سینکڑوں پاکستانیوں کو مالی نقصان کی صورت میں برداشت کرنا پڑر ہا ہے۔

ان سینکڑوں پاکستانیوں کے ڈی پورٹ ہونے کے بعد قونصل خانے کو بھی اب یاد آ گیا ہے کہ دُبئی آنے والوں کو نئی شرائط سے آگاہ کر دیا جائے۔ قونصل خانے کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ یو اے ای کی نئی سفری ہدایات کے مطابق ویزے ہولڈرز کو امارات آتے وقت اپنے ساتھ دو ہزار درہم لانے ہوں گے ، اور سفر سے قبل دُبئی کے کسی ہوٹل میں پیشگی بکنگ بھی کروانی ہو گی، جس کا ریکارڈ مسافر کو دُبئی پہنچنے پر امیگریشن حکام کو دکھانا ہو گا۔

پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے یو اے ای میں تعینات ریجنل مینجر شاہد مغل نے بتایا کہ ایئرپورٹ پر پھنسنے والے یہ مسافر زیادہ تر کم آمدنی والے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو ملازمتوں کی تلاش میں دُبئی آئے ہیں۔ نئی ٹریول پالیسی کے مطابق وزٹ ویزے پر آنے والے مسافروں کو اپنی ہوٹل کی بکنگ کا ثبوت دینا ہوتا ہے یا پھر اپنے پاس 2 ہزار درہم کے فنڈز ظاہر کرنے ہوتے ہیں جن کے ساتھ وہ دُبئی میں اپنے قیام و طعام کا خرچہ چلا سکتے ہیں۔