سعودی عرب میں ’باز‘ پونے تین کروڑ روپے میں فروخت

سعودی عرب میں بازوں کی فروخت کے سالانہ میلے میں پہلی بار ایک ’باز‘ 6 لاکھ 50 ہزار سعودی ریال میں فروخت ہوگیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سعودی فیلکن کلب کی جانب سے بازوں کی فروخت کے 45 دن کے سالانہ میلے میں 14 اکتوبر کو خصوصی افادیت کا ’باز‘ ریکارڈ قیمت میں فروخت ہوا۔

میلےکے منتظمین کے مطابق اچھی نسل اور خصوصی افادیت کے حامل ’باز‘ کا وزن محض ایک کلو 100 گرام تھا اور اسے سعودی عرب کے مشرقی صوبے کے حفرالباطن علاقے کی صحرا سے پکڑا گیا تھا۔ ریکارڈ قیمت پر فروخت ہونے والا باز شاہین نسل سے تھا اور منتظمین کے مطابق وہ اب تک کی دنیا میں پرندوں کی سب سے بڑی قیمت پر فروخت ہوا۔

باز کو 6 لاکھ 50 ہزار سعودی ریال اور ایک لاکھ 70 ہزار امریکی ڈالرز یعنی پاکستانی 2 کروڑ 80 لاکھ روپے کے قریب میں فروخت کیا گیا۔ مذکورہ باز کی نسل کے باز 300 میل فی گھنٹے کی رفتار سے سفر کرتے ہیں اور یہ زیادہ تر صحرائی علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔

بازوں یا شاہینوں کو سعودی عرب سمیت دیگر صحرائی عرب ممالک میں اہم ثقافتی اہمیت بھی حاصل ہے اور وہاں انہیں شوقیہ طور پر گھروں میں سجا کر بھی رکھا جاتا ہے۔ سعودی عرب سمیت دیگر چند امیر عرب ممالک کے لوگ بازوں سمیت اسی طرح کے دیگر پرندوں کے شکار کے لیے ہر سال موسم سرما میں پاکستان اور مراکش جیسے ممالک کا سفر بھی کرتے ہیں۔ پرندوں کے شکار کے لیے دیگر ممالک کا سفر کرنے والے امیر عرب شکاری پوری تیاری کے ساتھ جاتے ہیں اور کئی دن تک وہ شکاری کیمپ لگاتے ہیں۔

بازوں کی فروخت کا میلا رواں ماہ 3 اکتوبر سے شروع ہوا تھا جو آئندہ ماہ 15 نومبر تک جاری رہے گا اور خیال کیا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر مذکورہ باز سے بھی زائد رقم میں کوئی شاہین یا باز فروخت ہوگا، تاہم اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔ بازوں کی فروخت کے مذکورہ میلے کو دنیا کا سب سے بڑا فیلکن میلا بھی مانا جاتا ہے، جہاں پر دیگر عرب ممالک سے لائے گئے بازوں یا شاہینوں کو بھی فروخت کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔