تسمانی شیطان کی 3 ہزار سال بعد آبائی زمین پر واپسی

ہولی وڈ سائنس فکشن فلموں میں’تھور’ جیسا کردار ادا کرنے سے شہرت حاصل کرنے والے آسٹریلوی نژاد اداکار کرس ہیمس ورتھ اور جانوروں سے متعلق کام کرنے والی ایک تنظیم نے تسمانی شیطان (تسمانین ڈیولز) کہلائے جانے والے جانوروں کو تین ہزار سال بعد آبائی زمین پر چھوڑ دیا۔

تسمائی شیطان (تسمانین ڈیولز) دراصل کتے اور ریچھ کی مشابہت والے چھوٹے قد کے گوشت خور جانور ہیں، جو دودھ دیتے ہیں۔

یہ جانور عام طور پر انسانوں پر حملہ نہیں کرتے، تاہم اگر کوئی ان پر حملہ کرے تو وہ بدلے میں اپنی حفاظت کی خاطر کچھ بھی کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔

مذکورہ جانوروں میں سے زیادہ تر کی رنگت سیاہ ہوتی ہے، تاہم ان میں سے کچھ بھورے اور خاکی رنگ کے بھی ہوتے ہیں۔تحریر جاری ہے‎

مذکورہ جانوروں پر تسمائی نام اس لیے پڑا، کیوں کہ انہیں ابتدائی طور پر آسٹریلیا کی جزیرہ نما ریاست تسمانیا میں پایا گیا تھا۔

تاہم کم از کم تین صدیوں سے مذکورہ جانور اپنی آبائی سرزمین یعنی آسٹریلیا کی ریاست تسمائی سے بیماریوں اور قحط سمیت دیگر مسائل کی وجہ سے ختم ہوچکے تھے۔

تسمائی شیطان کو کئی سال سے منہ اور جبڑے کے کینسر کا سامنا ہے، جس وجہ سے 2008 میں اقوام متحدہ (یو این) اور جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اسے نایاب جانور قرار دے دیا تھا۔

تسیمائی شیطان کی نسل کی معدومیت کے خطرے کے باعث آسٹریلیا میں جانوروں کی افزائش و نشو نما کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے دیگر عالمی فلاحی اداروں کے ساتھ مل کر ان کی افزائش کی اور اب تین ہزار سال بعد مذکورہ جانور کو اپنی آبائی سرزمین میں چھوڑ دیا گیا۔

خبر رسان ادارے رائٹرز کے مطابق ہولی وڈ اداکار کرس ہیمس ورتھ نے دیگر تنظیموں کے اشتراک سے تسمانی شیطان کے جانوروں کو ان کی آبائی زمین کہلائی جانے والی ریاست تسمانیا کے جنگلات میں چھوڑ دیا۔

تسمیانی شیطانوں کو آسٹریلوی جنگلات میں چھوڑے جانے کے موقع پر کرس ہیمس ورتھ کی اہلیہ اور دیگر سماجی رہنما بھی موجود تھے۔

ابتدائی طور پر محدود تسمیانی شیطانوں کو جنگلات میں چھوڑا گیاہے، تاہم کرس ہیمس ورتھ اور آسٹریلیا میں جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم کے مطابق مجموعی طور آئندہ چند ماہ میں 400 تسمانی شیطانوں کو جنگلات میں چھوڑا جائے گا۔

تسمانی شیطانوں کی تین ہزار سال بعد آبائی زمین پر واپسی کے موقع پر آسٹریلوی افراد نے خوشی کا اظہار کیا اور اس امید کا اظہار بھی کیا کہ مذکورہ جانور اب منہ اور جبڑے کے کینسر کو شکست دینے میں کامیاب جائیں گے۔