خون کی گردش کے مسائل کی نشانیاں اور بچاؤ کی تدابیر

اس بات پر یقین کرنا مشکل ہوگا مگر ہمارا جسم 60 ہزار میل تک پھیلی خون کی شریانوں کو سنبھالے ہوئے ہے۔

دل اور دیگر پٹھوں کے ساتھ یہ شریانیں خون کی گردش کا نظام تشکیل دیتی ہیں۔

یہ نیٹ ورک خون کو جسم کے ہر کونے تک پہنچاتا ہے تاہم جب یہ نظام مسائل کا شکار ہو تو خون کی روانی سست یا بلاک ہونے لگتی ہے۔

جب ہاتھوں اور پیروں کو مناسب مقدار میں خون نہیں ملتا تو ہوسکتا ہے کہ ان میں ٹھنڈ کا احساس زیادہ ہو یا ایسا لگے کہ وہ ہر وقت سن رہتے ہیں، جبکہ پیروں اور ہاتھوں میں سوئیاں چبھنے کا احساس بھی ہوسکتا ہے۔

اگر جسم کی رنگت ہلکی ہے تو ہوسکتا ہے کہ ٹانگوں میں نیلگوں رنگ کی جھلک نظر آئے، جبکہ خون کی ناقص گردش سے جلد خشک، ناخن بھربھرے اور بال گرنے لگتے ہیں، خاص طور پر ٹانگوں کے۔

اگر ایسے افراد ذیابیطس کے مریض ہوں تو خراشیں اور چوٹیں بھرنے کا عمل سست رفتار ہوجاتا ہے۔’

نکوٹین سیگریٹ کا اہم ترین جزو ہے، جو شریانوں کی دیواروں کو نقصان پہنچا کر خون اتنا گاڑھا کردیتا ہے کہ وہ شریانوں سے گزر نہیں پاتا۔

اگر تو آپ تمباکو نوشی کرتے ہیں تو اس عادت کو ترک کردیں، اگر ایسا کرنا بہت مشکل ہے تو ڈاکٹر سے مدد لیں۔