موسم سرما کی آمد کے ساتھ ساتھ کرونا وائرس مزید طاقتور ہوگیا، انکشاف

فلوریڈا کے طبی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ موسم سرما کی آمد کے ساتھ ساتھ کرونا وائرس مزید طاقتور ہوگیا کیونکہ اب یہ بخارات کی صورت میں 6 فٹ سے زائد فاصلہ طے کرنے لگا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق کرونا کے ایک بار پھر بڑھتے ہوئے کیسز کے تناظر میں ماہرین نے وائرس کو پھیلنے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقی مطالعہ کیا۔

تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کرونا وائرس ہوا کے ذریعے پھیل رہا ہے، ایک مقام پر اگر وائرس موجود ہو تو یہ وہاں موجود شخص کو زیادہ متاثر کرتا ہے اگر کوئی فاصلے پر کھڑا ہو تو وبا کم اثر انداز ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق وائرس سے متاثرہ شخص کے کھانسنے، چھینکنے، بولنے، تھوکنے، سانس لینے میں جسم سے بخارات باہر نکلتے ہیں جن کے ساتھ پانی کے انتہائی چھوٹے قطرے بھی موجود ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق فضا میں تیرتے ہوئے ننھے آبی قطرے وائرس کو ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل کررہے ہیں، یہ قطرے 6 فٹ سے زائد فاصلہ طے کرسکتے ہیں۔

ماہرین تحقیق کی روشنی میں اس نتیجے پر پہنچے کہ کرونا وائرس 6 فٹ سے زائد فاصلے پر بھی پھیل سکتا ہے لہذا سماجی فاصلے کو مزید بڑھانا ہوگا تاکہ لوگ محفوظ رہیں۔

ماہرین نے اپنی تحقیق میں بتایا کہ ’انسانی آنکھ کو نظر نہ آنے والے قطروں میں سے بڑے حجم والوں میں وائرس کے زرات کی تعداد زیادہ ہوتی ہے مگر ایک فائدہ یہ ہے کہ وہ فضا میں زیادہ سفر طے نہیں کرتے اور قریبی ہی گر کر ختم ہوجاتے ہیں‘۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس سے قبل ماہرین نے تین فٹ سماجی فاصلے رکھنے کی ہدایت اسی بنیاد پر کی تھی مگر اب یہ بات سامنے آئی کہ مریضوں کے منہ یا ناک سے چھوٹے قطرے خارج ہورہے ہیں جو زیادہ دور تک سفر کرنے گھنٹوں تک خود کو زندہ رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘۔

ماہرین نے انکشاف کیا کہ اگر کسی کمرے یا بند مقام پر ایک قطرہ بھی پہنچ جائے تو یہ سانس لینے والے ہرشخص کو کرونا کا مریض بناسکتے ہیں۔ تحقیقی ماہرین نے مشورہ دیا کہ موسم سرما میں شہری خود کو زیادہ دیر تک بند جگہوں پر نہ رکھیں اور تازہ ہوا کی آمد کو یقینی بنائیں۔