ویڈیو گیم بچوں کی ذہنی نشوونما کیلئے مفید ہے یا نقصان دہ؟ نئی تحقیق نے حیران کردیا

بارسلونا: اسپین کی ایک یونیورسٹی میں ہونے والی تحقیق نے ویڈیو گیمز کو بچوں کی ذہنی نشوونما کے لیے مفید قرار دے دیا، اس سے یادداشت بہتر ہوتی ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسپینش اوپن یونیورسٹی آف کیتلونیا میں ہونے والی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ویڈیو گیمز کھیلنے کی عادت آنے والے برسوں میں بچوں کی یادداشت کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔

تحقیق کے مطابق ویڈیو گیمز کھیلنا چھوڑنے کے بعد بھی اس کے نتیجے میں برسوں تک دماغ میں مختلف تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، یہ ریسرچ جریدے فرنٹیئرز ان ہیومین نیوروسائنسز میں شائع ہوئی۔

اس تحقیق کے لیے 18 سے 40 سال کی عمر کے 27 افراد کو شامل کیا گیا تھا جن میں سے کچھ ویڈیو گیمز کھیلتے رہے تھے جبکہ دیگر اس سے دور رہے تھے، اس دوران تمام افراد کی ذہنی صلاحیتوں کو جانچا گیا۔

محققین کا کہنا تھا کہ لڑکپن سے قبل جو افراد ویڈیو گیمز کے شوقین تھے، چاہے بہت کم وقت کے لیے کھیلتے ہوں، وہ ورکنگ میموری کے ٹیسٹوں میں زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں، جبکہ ان کے مقابلے میں جو افراد گیمز سے دور رہے ان کی ورکنگ میموری کمزور ریکارڈ ہوئی۔

گیم سے دور رہنے والے افراد کی معلوملات کو ذہن نشین رکھنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے، درحقیقت وہ گیمز کھیلنے والوں کے مقابلے میں کچھ سست تھے، جبکہ تحقیق میں جو افراد بچپن میں گیمز کھیلنے کے شوقین تھے وہ تھری ڈی اشیا کی پراسیسنگ میں بھی زیادہ بہتر ثابت ہوئے۔

خیال رہے کہ اس تحقیق میں شامل لوگوں کے دماغ کا جائزہ ایک ماہ تک مسلسل لیا جاتا رہا جس کے بعد نتائج اخذ کیے گئے، ان کی ذہنی صلاحیتوں بشمول ورکنگ میموری کا جائزہ 3 نکات کے ذریعے لیا گیا۔