انسانی دل کے انتہائی تفصیلی نقشے سے مؤثر علاج کی راہیں کھلیں گی

لندن:yہم انسانی دل کو جان کر ہی اس کے امراض دور کرنے کے کچھ قابل ضرور ہوئے ہیں اور اب پہلی مرتبہ کئی اداروں نے مل کر انسانی خلیات کا پورا نقشہ مرتب کیا ہے جسے ’ہارٹ سیل اٹلس‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں دل کے تمام اقسام کے خلیات (سیل) اور سالمات (مالیکیول) کی تفصیلات شامل کی گئی ہیں۔

اس تحقیق سے کئی امراضِ قلب کو بہتر انداز میں سمجھنے اور معالجے کی راہ ہموار ہوگی۔ اس تحقیق میں ویلکم سینگر سینٹر انسٹٰی ٹیوٹ، ہارورڈ میڈیکل اسکول، امپیریئل کالج، البرٹا اور کیمبرج یونیورسٹٰی کے ساتھ کئی ادارے شامل ہیں۔ برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن، نیشنل سائنس فاؤنڈیشن اور ویلکم ٹرسٹ نے اس کی مالی معاونت کی ہے۔

اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ دل کے ہر پٹھے کے خلیات ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ خون کی نالیاں بھی متنوع ہیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ دل کے خلیات کس طرح مل کر ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہوئے دل کو چلاتے اور زندگی کو جاری رکھتے ہیں۔ مجموعی طور پر پانچ لاکھ خلیات کا گہرا مطالعہ کیا گیا ہے جس کی تفصیلات نیچر میں شائع ہوئی ہیں۔

اس تحقیق سے افزائشی (ری جنریٹوو) طب اور مریضوں کے لئے انفرادی علاج کی راہیں ہموار ہوں گی۔ دل پورے جسم میں خون پمپ کرتا ہے اور ہر عضو تک آکسیجن پہنچاتا ہے۔ روزانہ دل ایک لاکھ مرتبہ دھڑکتا ہے اور پورے جسم میں خون پہنچاتا ہے۔ دل کے دھڑکنے میں کئی خلیات ایک ساتھ مل کر کام کرتے ہیں اور ہر دھڑکن پر پورا دل یکسو ہوکر کام کرتا ہے۔

تحقیق کے لئے سائنسدانوں نے 14 افراد کے عطیہ کردہ دل کا معائنہ کیا۔ اس میں لگ بھگ 5 لاکھ انفرادی خلیات بھی پڑھے گئے۔ تاہم عطیہ کنندگان کا تعلق چھ مختلف علاقوں یا ممالک سے تھا۔ اس تحقیق کے لئے سنگل سیل ٹٰیکنالوجی، مشین لرننگ اور امیجنگ ٹیکنالوجی استعمال کی۔ اس کے علاوہ خلیات کے جینیاتی اثرات بھی نوٹ کئے گئے۔ واضح رہے کہ مطالعے میں شامل تمام دل مکمل طور پر صحتمند تھے۔

خلوی اٹلس سے معلوم ہوا کہ دل کے مختلف حصوں کے خلیات بھی الگ الگ ہوتے ہیں ۔ ان کام بھی مختلف ہوتا ہے اور یوں ان کے علاج کا طریقہ بھی جداگانہ ہونا چاہیے۔ دل کے چھ مختلف گوشوں میں 11 مختلف اقسام کے خلیات پائے جاتے ہیں لیکن ان کی ذیلی اقسام کی تعداد 62  کے قریب ہے۔

سائنسدانوں نے یہ بھی دیکھا کہ خون کی نالیوں میں موجود خلیات اپنے کام کے لحاظ سے مرتب ہوتے ہیں اور مختلف اقسام کا دباؤ برداشت کرتے ہیں۔ امید ہے کہ اس طرح دل کی رگوں (کارڈیوویسکیولر) امراض پر بھی روشنی ڈالی جاسکے گی۔