‘ہنگامی بنیادوں’ پر تدریسی اداروں کی بندش سے تعلیم پر منفی اثر پڑے گا، شفقت محمود

اسلام آباد: وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے تدریسی اداروں کو ‘جلد بازی میں بند کرنے کے فیصلے’ کے خلاف انتباہ دیا جبکہ معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پیز) کی خلاف ورزی اور کورونا کے کیسز منظر عام پر آنے کے بعد متعدد تعلیمی ادارے دوبارہ کھولنے کے فورا بعد ہی بند کردیے گئے۔

وفاقی وزیر تعلیم نے اپنے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ‘بین الصوبائی اجلاس کے بعد اعلان کردہ ٹائم ٹیبل میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، ہم 22 اپریل کو این سی او سی میں ملاقات کریں گے اور فیصلہ کریں گے لیکن اگر موجودہ رجحان باقی رہا تو 23 ستمبر سے 6 سے 8 کلاسز کی اوپننگ کا کوئی جواز نہیں بنتا’۔

س سے قبل وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا تھا کہ ‘طلبہ کی صحت ہماری پہلی ترجیح ہے اور ہم جو بھی فیصلہ کریں گے وہ وزارت صحت کے مشورے کے بعد کریں گے’۔

انہوں نے کہا کہ 6 ماہ تدریسی اداروں کی بندش سے طلبہ کی پڑھائی شدید متاثر ہوئی جبکہ اداروں کو کھولنے کا فیصلہ بہت احتیاط کے ساتھ کیا گیا تھا اور کسی بھی عجلت میں تدریسی اداروں کو بند کرنے کا فیصلہ تعلیم کو تباہ کردے گا۔

دوسری جانب بلوچستان میں ایک یونیورسٹی کو بند کردیا گیا جبکہ کورونا کے کیسز کے دوران ایک اور التوا کلاسز دوبارہ شروع کردی۔

صوبائی حکومت نے دعوی کیا کہ 15 ستمبر کو ان کے دوبارہ کھلنے کے بعد سے تعلیمی اداروں میں 67 کیسز کے سامنے آئے علاوہ ازیں کوئٹہ، ژوب اور دیگر علاقوں میں کم سے کم 10 سرکاری اسکولوں میں بھی کورونا کے کیسز آنے کے بعد بند کردیے گئے۔

ایک احتیاطتی اقدام کے طور پر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے تجویز پیش کی کہ سندھ کی طرح وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو بھی مڈل اسکولوں کو دوبارہ کھولنے میں تاخیر کرنی چاہیے۔

صحت سے متعلق پیشہ ور افراد کی تنظیم پی ایم اے نے خدشہ ظاہر کیا کہ آنے والے دنوں میں کووڈ 19 کے کیسز کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔

پی ایم اے نے کہا کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کو درجہ حرارت میں کمی اور ایس او پیز کی خلاف ورزی پر غور کرتے ہوئے ایسے فیصلے کرنے چاہیے۔

صحت سے متعلق وزیر اعظم کے معاون خصوصی (ایس اے پی ایم) ڈاکٹر فیصل سلطان نے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ کیسز میں ‘معمولی اضافہ’ تعلیمی اداروں کو دوبارہ کھولنے سے منسوب نہیں کیا جانا چاہیے۔

وزیر اعظم کے معاون نے کہا کہ کیسز میں ‘عالمی سطح پر اضافے کا رجحان’ ہے لیکن پاکستان میں حالیہ کیسز کی تعداد میں اضافے کی وجہ غیرمعمولی ٹیسٹنگ تھی۔