بلڈ پریشر کی زیادتی اور ذیابیطس سے دماغی ساخت بدل سکتی ہے

آکسفورڈ: بلند فشارِ خون (بلڈ پریشر) اور ذیابیطس اگرچہ اپنی ذات میں خطرناک امراض ہیں لیکن اب انکشاف ہوا ہے کہ ان امراض سے دماغی ساخت بدل جاتی ہے اور دماغی افعال پر بھی اثر پڑتا ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کی ماہرِاعصاب مشیل ویلدزما ن نے یہ تحقیق کی ہےاور بتایا کہ اگرچہ ٹائپ ٹو ذیابیطس کے پورے بدن پر اثرات مرتب ہوتے ہیں لیکن درمیانی عمر میں یہ دماغٰ ساخت پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں اور اس کے واضح اثرات نظر آنے لگتے ہیں۔

انہوں نےبتایا کہ دونوں امراض دماغ کے سوچنے کے عمل اور یادداشت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہ تبدیلیاں عمر کے ساتھ ساتھ دکھائی دیتی ہیں لیکن نسبتاً جوان افراد کے دماغ میں ان دونوں بیماریوں کے مضراثرات دیکھے گئے ہیں۔
ماہرین نے پورے برطانیہ کے بایوبینک سے 22 ہزار افراد کے دماغی اسکین جمع کئے ہیں ۔ ان ایم آر آئی اسکین میں دماغ کا وہ حصہ دیکھا گیا جو سوچنے اور سمجھنے کے عمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اسے گرے میٹر کہا جاتا ہے۔ ماہرین نے دیکھا کہ دماغی روابط اور گرے میٹر میں خون کی سپلائی متاثر ہونے سے بہت سے دماغی افعال کمزور پڑجاتے ہیں۔

سائنسدانوں نے 44 سے 70 برس کے افراد کے ایم آر آئی اسکین اوران کے دماغی کیفیات کا جائزہ لیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 40 یا اس کے اطراف کی عمر والے بلڈ پریشر کے مریضوں میں دماغی قوت اور حافظے کی کمزوری نوٹ کی گئی لیکن 70 برس کی عمر کے لوگوں میں ذیابیطس اور بلڈ پریشر ہونے کے باوجود یادداشت اور دماغی افعال کی بہت زیادہ کمی دیکھی گئی۔

مطالعے میں شامل 5 فیصد افراد ذیابیطس کے شکار تھے لیکن ان میں بلڈ پریشر کے شکار افراد کے مقابلے میں کم نقصان دیکھا گیا۔ مجموعی طور پر مریض کسی بھی طرح ڈیمنشیا جیسی سنگین بیماری کے شکار نہیں تھے لیکن اسی رفتار سے دماغی صلاحیتوں میں کمی وقت کے ساتھ ساتھ مزید سنگین اور پیچیدہ ضرور ہوسکتی ہے۔

ڈاکٹر مشیل کے مطابق بلڈ پریشر اور شوگر کے شکار درمیانی عمر کے افراد یہ فرق ہر روز نہیں دیکھ سکتے لیکن یہ ضرور طے ہے کہ دونوں بیماریاں ذہنی صلاحیت متاثر کرتی ہیں۔ یہ دونوں امراض دنیا میں عام ہیں اور اس سے آبادی کا بڑا حصہ دماغی کمزوری کا شکار ہوسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ذیابیطس اور بلڈ پریشر کے مریض اپنی دماغٰ صحت کا بھرپور خیال رکھیں اور مرض کی شدت کو کم سے کم کرنے کی کوشش کریں۔