friend daughter sucking sideways big rod.videos porno
desi porn
pornoxxx

لانگ کوویڈ کے بچوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ؟ نئی تحقیق

کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے کے کئی ہفتوں یا مہینوں بعد بھی مختلف علامات کا سامنا کرنے والے افراد کے لیے لانگ کوویڈ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے، اس حوالے سے کئی ماہ سے مسلسل تحقیقی کام جاری ہے۔ دی لانسیٹ چائلڈ اینڈ ایڈولیسنٹ ہیلتھ جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق بچوں میں کورونا کی طویل المیعاد علامات نظر آنے کے امکان کم ہوتے ہیں۔ وہیں دیگر مطالعہ کے مطابق بالغوں میں کووڈ 19 کے مضر اثرات طویل عرصے تک نظر آتے ہیں۔ زیادہ تر ماہرین اور ڈاکٹروں نے تصدیق کی ہے کہ بالغوں کے مقابلے میں بچے کورونا وائرس کے انفیکشن کا کم شکار ہوتے ہیں اور اگر وہ اس بیماری کا شکار ہو بھی جاتے ہیں تو عام طور پر ان میں ہلکے انفیکشن نظر آتے ہیں اور وہ جلد صحت یاب بھی ہوجاتے ہیں۔ چائلڈ اینڈ ایڈولیسنٹ ہیلتھ جرنل میں شائع ہونے والی کنگز کالج لندن کی ایک حالیہ تحقیق نے اس کی تصدیق کی ہے۔

بالغوں میں لانگ کووڈ( کووڈ کی طویل المیعاد علامات کا سامنا کرنا) کے حوالے سے متعدد طبی مطالعے کیے گئے ہیں لیکن حالیہ طبی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بچوں میں لانگ کووڈ انفیکشن ہونے کے امکانات بالغوں کے مقابلے کم ہیں۔ کووڈ سے متاثر بیشتر بچوں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ ان میں 6 دن کے بعد کووڈ کی علامات ختم ہوجاتی ہیں۔ اس مطالعے کا ڈیٹا کورونا وائرس سے متاثرہ بچوں کے والدین اور ان کی دیکھ بھال کرنے والی دائی ماؤں کے ذریعہ ایپ پر شیئر کردہ اعداد وشمار کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔ کنگز کالج لندن کے محققین کی جانب سے کی گئی اس تحقیق کے مطابق طویل عرصے تک کورونا وائرس کی علامات یا مضر اثرات کا سامنا کرنے والے بچوں کی تعداد نسبتاً کم ہے۔

دوسری جانب اگر ہم اسی حوالے سے کیے گئے دوسرے مطالبات کے بارے میں بات کرتے ہیں تو بالغوں میں کووڈ 19 کے مضر اثرات طویل عرصے تک نظر آتے ہیں۔ اس تحقیق میں 5 سے 17 سال کی عمر کے ڈھائی لاکھ برطانوی بچوں کو شامل کیا گیا تھا جن میں ستمبر 2020 سے فروری 2021 کے دوران کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی تھی۔ اسی عرصے میں متاثر ہونے والے 1 ہزار734 بچوں میں آہستہ آہستہ اس بیماری کی علامات نظر آنے لگی۔ ان بچوں کے صحت یاب ہونے تک ان کی صحت کی مسلسل نگرانی کی جاتی رہی۔ تحقیق کے دوران یہ مشاہدہ کیا گیا کہ ان متاثرہ بچوں میں کووڈ 19 کی علامات محض 6 دن میں کم ہونا شروع ہوگئیں اور وہ جلد ہی صحت یاب بھی ہوگئے۔

تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ زیادہ تر بچے 4 ہفتوں یعنی ایک ماہ کے اندر مکمل طور پر صحت یاب ہوگئے، لیکن کچھ بچوں میں اس کے بعد بھی انفیکشن کی علامات نظر آئیں۔ تاہم ان علامات کے اثرات بالغوں کے مقابلے میں بہت کم تھے۔ اس مطالعے میں ایک اور بات پتہ چلی کہ وہ بچے جو کم وقت میں کورونا وائرس سے صحت یاب ہوئے ہیں، ان میں انفیکشن کے مضر اثرات ظاہر نہیں ہوئے ہیں لیکن جن بچوں میں انفیکشن ایک ماہ سے زائد عرصے تک نظر آئے ہیں وہ تھکاوٹ اور جسمانی کمزوری کا شکار ہوئے ہیں۔

spanish flamenca dancer rides black cock.sex aunty
https://www.motphim.cc/
prmovies teen dildo wet blonde stunner does it on the hood of car.