دوائی کے بغیر مخصوص طریقہ علاج سے ایڈز کے مریض شفایاب

ایک نئی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ لاعلاج سمجھے جانے والے مرض ایڈز میں ایک مخصوص طریقہ علاج کے ناقابل یقین نتائج سامنے آئے ہیں جس میں مریض کو دوائیں بھی دینا نہیں پڑتیں۔

سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والے ایک تحقیقی مقالے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والی 66 سالہ خاتون لورین ویلن برگ میں 1992 میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی تھی جو اب بغیر کسی دوا یا بون میرو ٹرانسپلانٹ کے صحت یاب ہوگئی ہیں۔

تحقیق کی سربراہی کرنے والے ساؤ پاؤلو یونیورسٹی کے ڈاکٹر ریکارڈو ڈیاز نے اپنی تحقیق میں لکھا کہ اس طریقہ علاج میں وائرس کو جگانے اور مدافعتی نظام کو بڑھانے کی کوشش کی گئی تھی تاکہ وہ ایک وار میں ہی چھپے ہوئے وائرس کا خاتمہ کردے۔
ڈاکٹر ریکارڈو نے مزید لکھا کہ نکوٹینمائیڈ متاثرہ خلیات میں وائرس سے لڑنے کے ساتھ ساتھ انہیں تباہ کرنے پر مجبور کرتی ہے اور دوسری طرف مدافعتی نظام کو بھی متحرک کرتی ہے جس سے مریض ایچ آئی وی سے لڑنے کے قابل ہوجاتا ہے۔

لورین ویلن برگ کی صحت یابی میں بھی کسی دوا یا دیگر طریقہ علاج کے بجائے ان کے اپنے قوت مدافعت کے بیدار و مضبوط ہونے کا ہاتھ ہے۔ لورین سمیت 64 مریضوں پر یہ تحقیق ریگن انسٹیٹوٹ میں کی گئی۔

لورین کے سوا باقی 63 افراد کے نظام مدافعت نے قدرتی طور پر اپنے ایچ آئی وی کو کنٹرول تو کرلیا لیکن وہ اس کی نقول نہیں بناسکا جب کہ لورین کے کیس میں وائرس کی نقول بھی بن گئیں۔ ان سے قبل بھی 2007 میں 2 افراد ٹموتھی براؤن اور ایڈ کاسٹیلجو کو ایچ آئی وی سے مکمل صحتیاب قرار دیا جاچکا ہے۔

تحقیق کے سربراہ نے اس طریقہ کار کے نتائج کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اگر یہ نیا تجرباتی طریقہ علاج دیگر مریضوں میں بھی کام کر گیا تو یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہوگی۔