جراحی کے بعد باقی ماندہ سرطانی خلیات کو تباہ کرنے والا پلازمہ پین

واشنگٹن: دنیا بھر میں کئی طرح کے کینسر ذدہ حصوں کو نکالنے کی جراحی کے لاتعداد عمل روزانہ ہی ہوتے ہیں۔ لیکن ہرطرح کی احتیاط کے باوجود بعض ٹشو اور خلیات باقی بچ جاتے ہیں اور انہیں ختم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر انہیں ختم نہ کیا جائے تو مرض دوبارہ سر اٹھاسکتا ہے۔ صرف برطانیہ میں ہی پانچ میں سے ایک خاتون چھاتی کے سرطان کے خاتمے کی دوبارہ شکار ہوجاتی ہے کیونکہ کینسر کے باقی رہ جانے والے خلیات دوبارہ مرض کو پیدا کردیتے ہیں۔

لیکن اب ایک پلازمہ پین بنایا گیا ہے جو بہت مؤثر انداز میں آپریشن کے بعد سرطان کے خلیات کو تباہ کردیتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت یہ پین نما شے مختلف شدت کی پلازمہ شعاعیں خارج کرتی ہے۔

اس ایجاد کا پورا نام ’کینیڈی ہیلیوس کولڈ پلازما سسٹم‘ ہے جس میں برقی طور پر چارج شدہ گیس جسم پر ڈالی جاتی ہے اور وہ رسولیوں کی باقیات کو ختم کردیتی ہے، جب پین کو کینسر خلیات کا پتا چلتا ہے تو یہ فری ریڈیکلز جیسے زہریلے سالمات خارج کرتے ہیں جس سے سرطانی خلیات تباہ ہوجاتے ہیں جبکہ صحت مند خلیات برقرار رہتے ہیں۔ کینسر خلیات میں بھی فری ریڈیکلز پائے جاتے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بیماری کو بڑھاوا دیتے ہیں۔
چھاتی کا سرطان ہو یا کسی اور مقام کا اس کی وجہ بننے والی ٹھوس رسولی کو سرجری سے نکالا جاتا ہے۔ اس عمل میں اطراف کے بعض صحتمند ٹشوز بھی نکالے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود ماہرین کو خدشہ رہتا ہے کہ بعض سرطانی خلیات رہ گئے ہیں۔

واشنگٹن میں طبی آزمائش سے گزرنے والا پلازما پین سے انتہائی گرم کی بجائے ٹھنڈی یا کولڈ پلازمہ خارج ہوتی ہے۔ جو صرف 35 سے 40 درجہ سینٹی گریڈ تک گرم ہوتی ہے۔ بعض جانوروں پر تجربات سے دیکھا گیا کہ صرف دو منٹ کی پلازمہ تھراپی سے سرطانی خلیات کی بڑی مقدار ختم ہوگئی۔ 2011 میں بھی ایسے تجربات کئے گئے تھے جس میں سرد پلازمہ کے مختصر مدتی جھماکوں سے سرطانی خلیات بہت کامیابی سے تباہ کئے گئے تھے۔

یہ ٹیکنالوجی جلد، چھاتی، گردن اور سر، مثانے اور جگر کے کینسر میں استعمال کی جاسکتی ہے۔ گزشتہ برس امریکی ایف ڈی اے نے 20 مریضوں پر اس کے تجربات بھی کئے ہیں جن کے نتائج ابھی آنے باقی ہیں۔ لیکن یہ پلازمہ تھراپی کسی بھی طرح کیموتھراپی اور ریڈیو تھراپی کی جگہ نہیں لے سکتی بلکہ اسے سرطانی خلیات کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔