جانسن اینڈ جانسن کووڈ ویکسین اور بلڈ کلاٹس کے درمیان ممکنہ تعلق دریافت

یورپین میڈیسن ایجنسی (ای ایم اے) نے جانسن اینڈ جانسن کی کووڈ 19 ویکسین اور بلڈ کلاٹس کیسز کے درمیان ممکنہ تعلق کو دریافت کیا ہے۔ای ایم اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ویکسین کے استعمال اور بلڈ کلاٹس کے غیرمعمولی کیسز جن میں بلڈ پلیٹلیٹس کی مقدار کم ہوجاتی ہے، کہ درمیان تعلق موجود ہے۔

یورپین ادارے نے بتایا کہ مجموعی طور پر ویکسین کے فوائد خطرے سے زیادہ ہیں مگر اس تعلق کو ویکسین کے کبھی کبھار سامنے آنے والے مضر اثرات کی فہرست کا حصہ بنانا چاہیے۔ای ایم اے نے مشورہ دیا کہ اس حوالے سے ایک انتباہ ویکسین شاٹ کی تفصیلات کے ساتھ منسلک ہونا چاہیے۔

جانسن اینڈ جانسن نے اس حوالے سے کہا ہے کہ وہ کبھی کبھار سامنے آنے والے اس مضر اثر کی تفصیلات اپنے پمفلٹس میں شامل کرے گی اور یورپ کے لیے ویکسین کی فراہمی کا سلسلہ بحال کیا جائے گا۔

جانسن اینڈ جانسن کے چیف سائنٹیفک آفیسر پال اسٹوفلز نے بتایا کہ لوگوں کا تحفظ ہماری مصنوعات کی سرفہرست ترجیح ہوتی ہے، ہم اس حوالے سے پی آر اے سی کے ریویو کو سراہتے ہیں اور اس اثر کی علامات کے بارے میں لوگوں کا شعور اجاگر کرنا چاہتےہ یں۔

خیال رہے کہ امریکا نے اپریل کے شروع میں جانسن اینڈ جانسن کی سنگل ڈوز کووڈ ویکسین کا استعمال روک دیا تھا جس کی وجہ چند افراد میں بلڈ کلاٹس کے کیسز سامنے آنا تھا۔اس ویکسین کو استعمال کرنے والے 8 افراد میں بلڈ کلاٹس کے کیسز سامنے آئے جن کی عمریں 60 سال سے کم اور بیشتر خواتین تھیں۔

ان سب میں بلڈ کلاٹس ویکسینیشن کے 3 ہفتے کے اندر رپورٹ ہوئے۔امریکا میں 79 لاکھ افراد کو یہ ویکسین استعمال کرائی جاچکی ہے۔خیال رہے کہ دیگر ویکسینز کے مقابلے میں جانسن اینڈ جانسن کی ویکسین کا ایک ڈوز ہی کورونا سے بچاؤ کے لیے کافی قرار دیا گیا تھا اور امریکا کے بعد یورپ کے متعدد ممالک نے بھی اس کے استعمال کی منظوری دی تھی۔

جانسن اینڈ جانسن کی ویکسین کی ایک اور خاص بات یہ تھی کہ اس ویکسین کو دیگر ویکسینز کے مقابلے میں صرف فریج کے درجہ حرارت پر تین ماہ تک اسٹاک کیا جا سکتا ہے۔

اس سے قبل ایسٹرازینیکا ویکسین کے حوالے سے بھی کچھ ممالک میں بلڈ کلاٹس کے کیسز سامنے آئے تھے اور اس کے استعمال کو روکا گیا تھا۔یورپین میڈیسن ایجنسی نے ایسٹرازینیکا ویکسین اور بلڈ کلاٹس کے درمیان ایک ممکنہ تعلق کو دریافت کیا تھا اور اس حوالے سے ابھی مزید تحقیق کی جارہی ہے۔