بوڑھے افراد گھریلو امور میں وقت گزاریں، دماغی صحت پائیں

کینیڈا: اگر آپ کے گھر میں بزرگ ہیں تو انہیں گھریلو کام کاج کرنے دیں کیونکہ اس سے ان کی دماغی صحت بہتر رہ سکتی ہے۔

ایک حالیہ مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ اگر بزرگ افراد اپنے گھریلو کاموں کو دلجمعی سے انجام دیں تو ان کا دماغی حجم بڑھاپے کے باوجود برقرار رہ سکتا ہے اور یہی دماغی صحت ، یادداشت اور ذہنی افعال کی وجہ بھی ہوتا ہے۔

’سائنسداں پہلے سے ہی جانتے ہیں کہ ورزش سے دماغ پر مثبت اثرات ہوتے ہیں لیکن ہماری تحقیق نے پہلی مرتبہ یہ ثابت کیا ہے کہ گھریلو امور کی انجام دہی کے دماغ پر یہی اثرات مرتب ہوتے ہیں،‘ مطالعے کے سربراہ نواہ کوبلنسکی نے بتایا جو رے کریسٹ روٹمین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں فزیالوجسٹ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے نوٹ کیا ہے کہ بظاہرغیراہم گھریلوسرگرمیاں بھی بوڑھے خواتین و حضرات میں ڈیمنشیا اور دماغی انحطاط روکنے کے طریقے کے طور پر استعمال کی جاسکتی ہیں۔

بی ایم سی جرنل میں شائع اس رپورٹ میں 66 ایسے بوڑھے افراد کو شامل کیا گیا جو دماغی طور پر تندرست تھے۔ انہیں تین مرتبہ ہسپتال بلایا گیا جہاں ان کی صحت، دماغی ساختی تصویر کشی اور ان کی اکتسابی و ذہنی صلاحیت (کوگنیشن) کو نوٹ کیا گیا۔

اس دوران تمام شرکا سے گھریلو امور کے بارے میں بھی پوچھا گیا جن میں صفائی، کھانا پکانا، ڈسٹنگ، برتن اور کپڑے دھونے، باغبانی، مرمت اور بچوں کی نگرانی وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں سے جنہوں نے زیادہ وقت گزارا ان کے دماغ کا حجم دیگر کے مقابلے میں زیادہ تھا۔ اسی طرح دماغ کے ایک اہم گوشے ہیپوکیمپس میں بہتر سرگرمی نوٹ کی گئی جو یادداشت اور سیکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اس کے بعد ماہرین کا خیال ہے کہ بوڑھے افراد اپنی دماغی صحت کے لیے گھریلو امور میں اپنا اہم کردار ادا کریں کیونکہ یہ ان کے دماغ کے لیے بہت مفید عمل ہے۔