کیا کرونا کو شکست دینے والے افراد کے لیے ویکسین کی ایک خوراک کافی ہے؟

پنسلوانیا: امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو افراد کرونا وائرس کو شکست دے دیتے ہیں، انھیں دوبارہ اس کے حملے سے محفوظ رکھنے کے لیے ویکسین کی ایک خوراک کافی ہوتی ہے۔

یونی ورسٹی آف پنسلوانیا اسکول آف میڈیسن کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کو وِڈ 19 کو شکست دینے والے افراد میں وائرس کو ناکارہ بنانے والے مؤثر اینٹی باڈی ردِ عمل کے لیے کرونا ویکسین کی ایک خوراک ہی کافی ہوتی ہے، جب کہ دوسری خوراک سے کچھ خاص فائدہ نہیں ہوتا۔

محققین کا کہنا ہے کہ جو لوگ کبھی کرونا وائرس سے متاثر نہیں ہوئے، ان میں مدافعتی رد عمل ویکسین کی 2 خوراکوں کے استعمال کے بعد ہی متحرک ہوتا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ کرونا کے شکار اور شکار نہ ہونے والے افراد میں ویکسی نیشن کے بعد میموری بی سیل ردِ عمل (یعنی مدافعتی رد عمل) ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ طبی جریدے سائنس امیونولوجی میں شایع شدہ اس ریسرچ میں ایم آر این اے ویکسینز استعمال کرنے والے افراد کو شامل کیا گیا تھا، جب کہ ماضی میں mRNA ویکسین پر تحقیق میں میموری بی سیل کے مقابلے میں اینٹی باڈیز پر زیادہ توجہ دی گئی، حالاں کہ میموری بی سیلز مستقبل میں اینٹی باڈی رد عمل کی پیش گوئی کا ایک ٹھوس عنصر ہے۔

محققین کے مطابق کرونا سے متاثرہ افراد میں ویکسین کی ایک خوراک کافی ہونے کی ممکنہ وجہ یہ ہے کہ ان افراد کا وائرس کے خلاف بنیادی مدافعتی رد عمل بیماری کے باعث پہلے ہی مضبوط ہو چکا ہوتا ہے، جب کہ کونا سے محفوظ افراد میں اتنا ٹھوس مدافعتی رد عمل ویکسین کی 2 خوراکوں کے بعد ہی دیکھنے میں آیا۔

اس ریسرچ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ کرونا وائرس کی جنوبی افریقی قسم اور ڈی 614 جی میوٹیشن کا سامنا کرنے والے افراد میں بھی ٹھوس مدافعتی رد عمل کے لیے ویکسین کی ایک خوراک مؤثر ہوتی ہے۔

تحقیق میں 32 افراد پر ویکسین کے مضر اثرات کا جائزہ بھی لیا گیا، ویکسین کی ایک خوراک کے بعد لوگوں کو بخار، کپکپی، سر درد اور تھکاوٹ جیسی علامات نمودار ہوئیں۔

یہ ابتدائی تحقیق تھی اور اب ویکسین کی ایک یا دو ڈوزز کی ضرورت کے باقاعدہ تعین کے لیے سائنس دان بڑے پیمانے پر تحقیق کریں گے۔ اس تحقیق کے لیے 44 صحت مند افراد کی خدمات حاصل کی گئی تھیں، جن کو بائیو این ٹیک/فائزر یا موڈرنا ویکسین استعمال کرائی گئی تھی، ان میں سے 11 پہلے کرونا کا شکار رہ چکے تھے، ان افراد کے خون کے نمونے لے کر ویکسین کی خوراکوں کے استعمال سے پہلے اور بعد میں مدافعتی ردعمل کا تجزیہ کیا گیا۔