کیا کووِڈ 19 سے ذیابیطس بھی ہوسکتی ہے؟

لندن: سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ناول کورونا وائرس سے متاثر ہو کر صحت یاب ہونے والوں کو بعد میں دوسری بیماریوں کے علاوہ ذیابیطس بھی ہوسکتی ہے۔

اگرچہ اس حوالے سے شواہد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے لیکن اس خیال کی باضابطہ تصدیق کےلیے ماہرین نے اگست 2020 سے ایک ویب سائٹ بھی بنائی ہوئی ہے جس کے ذریعے کووِڈ 19 کے بعد ذیابیطس کا شکار ہونے والے مریضوں کی معلومات جمع کی جارہی ہیں۔

ماہرین کووِڈ 19 کی حالیہ عالمی وبا کے بارے میں ابتداء سے ہی خبردار کر رہے ہیں کہ ذیابیطس کے مریضوں کےلیے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ دوسروں کی نسبت زیادہ ہے۔

تاہم اسی دوران بہت سے ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں کہ جب کورونا وائرس کو شکست دے کر صحت یاب ہوجانے والے افراد میں کچھ عرصے بعد ذیابیطس بھی نمودار ہوگئی، حالانکہ اس سے پہلے وہ اس مرض میں مبتلا نہیں تھے۔

نومبر 2020 میں اس حوالے سے شائع ہونے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا تھا کہ کووِڈ 19 سے شفایاب ہونے والے 3,711 مریضوں میں 492 افراد چند ماہ بعد ذیابیطس میں مبتلا ہوگئے۔

اسی تسلسل میں 15 جنوری 2021 کے روز برطانوی ماہرین کا ایک اور وسیع البنیاد مطالعہ ’’میڈآرکائیو‘‘ (Medrxiv.org) پری پرنٹ سرور پر شائع ہوا ہے جس میں کووِڈ 19 کو شکست دے کر صحت یاب ہونے والے تقریباً 50 ہزار مریضوں کا ششماہی جائزہ لیا گیا ہے۔

اس مطالعے میں بھی یہی کہا گیا ہے کہ کووِڈ 19 کے باعث اسپتال میں ہونے، اور صحت یاب ہوجانے والے، 4.9 فیصد افراد میں چند ماہ بعد ذیابیطس کی تشخیص ہوئی ہے۔ یہ تمام افراد وہ تھے جو کووِڈ 19 کا شکار ہونے سے پہلے ذیابیطس میں مبتلا نہیں تھے۔

یہ تمام شواہد اسی طرف اشارہ کررہے ہیں کہ کورونا وائرس سے متاثر ہو کر شفایاب ہوجانے والوں کو بعد میں بھی محتاط رہنا چاہیے کیونکہ ان پر دوسری کئی بیماریوں کی یلغار ہوسکتی ہے۔

اگرچہ اس بات کا حتمی تعین ہونے میں کچھ وقت لگے گا کہ کورونا وائرس، ذیابیطس کی وجہ بنتا ہے یا نہیں، تاہم اس دوران کووِڈ 19 کے متاثرین کو اپنی آئندہ صحت کے بارے میں زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔