میٹھا کھانے کے شوقین افراد کے لیے بری خبر

طبی ماہرین بہت زیادہ میٹھا کھانے سے گریز کی ہدایت کرتے ہیں اور اب حال ہی میں اس کے ایک اور خطرناک نقصان کا انکشاف ہوا ہے۔سوئٹزر لینڈ میں کی جانے ایک تحقیق کے مطابق چینی کا زیادہ استعمال جگر پر چربی چڑھنے اور ذیابیطس ٹائپ 2 جیسے امراض کا باعث بن سکتا ہے۔

زیورخ یونیورسٹی اور زیورخ یونیورسٹی ہاسپٹل کی تحقیق میں جانچ پڑتال کی گئی کہ چینی کا زیادہ استعمال کس حد تک جسمانی وزن پر اثرات مرتب کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں کن امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔

تقیق میں دیکھا گیا کہ روزانہ چینی کی معتدل مقدار کا استعمال بھی جگر میں چربی بڑھانے کا باعث بنتا ہے اور چربی بننے کا یہ عمل طویل المعیاد بنیادوں تک جاری رہتا ہے۔

اس تحقیق میں 94 صحت مند نوجوانوں کو شامل کیا گیا تھا اور 7 ہفتے تک روزانہ انہیں مختلف اقسام کی چینی سے بننے والا ایک میٹھا مشروب استعمال کرایا گیا۔ ایک کنٹرول گروپ بھی تحقیق کا حصہ تھا جس کو یہ مشروب نہیں دیا گیا۔

تحقیق کے دوران مجموعی طور پر رضا کاروں نے اضافی کیلوریز کا استعمال نہیں کیا تھا بلکہ وہ مشروب پیٹ بھرنے کا احساس بڑھانے کے ساتھ دیگر ذرائع سے کیلوریز کے حصول کی خواہش کم کرتا تھا۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ میٹھے کے استعمال سے جگر کے اندر چربی بنانے کا عمل دوگنا تیز ہوجاتا ہے اور یہ سلسلہ 12 گھنٹے تک برقرار رہتا ہے، ماہرین یہ جان کر حیران رہ گئے کہ یہ اس چینی سے ہوتا ہے جو عام استعمال ہوتی ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ جگر میں چربی بڑھنے سے جگر پر چربی چڑھنے اور ذیابیطس ٹائپ 2 جیسے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔