بصارت کو ازخود درست کرنے والی انقلابی عینک

ٹوکیو: جو لوگ عینک لگاتے ہیں انہیں احساس ہے کہ لیزر کے بغیر ان کی بصارت ٹھیک نہیں ہوسکتی وہ اس عینک کو ضرور آزمائیں جو کسی آپریشن، دوا اور تکلیف کے بغیربصارت کو درست کردیتی ہے۔

اب جاپانی کمپنی کیوبوٹا فارماسیوٹیکلز کے شعبہ بصارت نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی نئی عینک کو مسلسل پہننے سے بالخصوص دور کی نظر کسی علاج کے بغیر ہمیشہ کے لیے درست ہوجاتی ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ عینک پہننے سے جزوی اندھا پن بھی دور ہوسکتا ہے۔

کمپنی نے اسے اپنے نام پر ’کیوبوٹا‘ گلاسِس کا نام دیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ ابتدائی نمونے (پروٹوٹائپ) میں شامل ہے لیکن اس کی انسانوں پر آزمائش بھی کی جارہی ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ اس سے دور کی نظر’میوپیا‘کو مؤثر انداز میں درست کیا جاسکے گا۔ اس عمل میں دور نظر کمزور ہوجاتی ہے جسے درست کرنے کے لیے پوری زندگی عینک لگانی پڑتی ہے۔

پہلے مرحلے میں اسمارٹ عینک ایشیا میں فروخت کی جائے گی جہاں آبادی کی بڑی تعداد میوپیا کی شکار ہے۔ کمپنی کے مطابق 20 سال تک کی عمر کے 95 فیصد جاپانی، 96 فیصد جنوبی کوریائی، 85 فیصد تائیوانیوں، اور ہانگ کانگ کے 87 فیصد افراد کو دور کی نظر کے لیے عینک کی ضرورت ہے۔ پوری دنیا میں دوارب 56 کروڑ افراد اسی بصارتی عارضے کے شکار ہیں۔

اسی بنا پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ دنیا بھر میں لوگوں کو اس ایجاد کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی بینائی کو بہتر بناسکیں۔ لیکن اب تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اسے کتنے ہفتے، ماہ یا برس تک پہننے سے مکمل افاقہ ہوگا۔ غالباً اس کا تعلق آنکھوں کے نمبروں سے ہوسکتا ہے۔ تاہم کمپنی نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اسے مزید انسانوں پر آزمانے کی کوشش کرے گی۔ جبکہ امریکہ میں بھی 25 افراد اسے استعمال کررہے ہیں۔

یہ ایجاد اربوں افراد کے لیے فائدہ مند ہوسکتی ہے لیکن اب تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ آخرکسطرح کام کرتی ہے جبکہ کمپنی نے اس کی کوئی تفصیل نہیں بتائی ہے۔