امریکا میں بھی کورونا ویکسین کا استعمال شروع

کورونا سے متاثر دنیا کے سب سے بڑے ملک امریکا نے بھی وبا سے تحفظ کے لیے فائزر و بائیو این ٹیک کی تیار کردہ ویکسین کا عام استعمال شروع کردیا۔امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ریگولیٹر اتھارٹی نے 2 دن قبل 13 دسمبر کو ہی فائزر و بائیو این ٹیک کی ویکسین کے استعمال کی منظوری دی تھی۔ویکسین کے عام استعمال کی منظوری کے محض 2 دن بعد امریکا میں اس کا عام استعمال شروع کردیا گیا۔ 15 دسمبر کو امریکی ریاست مشی گن اور نیو جرسی سمیت دیگر ریاستوں کے 400 سے زائد ہسپتالوں اور طبی مراکز میں ویکسینیشن کا آغاز کردیا گیا۔

ابتدائی طور پر امریکا میں طبی رضاکاروں اور عمر رسیدہ افراد کو ویکسین لگائی جائے گی۔امریکا میں ویکسین کا پہلا ڈوز نیویارک کی نرس سندرا لندسے کو لگایا گیا جبکہ ریاست مشی گن میں بھی ایک 43 سالہ خاتون نرس کو پہلا ڈوز دیا گیا۔دونوں نرسز کو ویکسین لگائے جانے کا مرحلہ براہ راست ٹی وی چینل سمیت مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی دکھایا گیا۔ امریکا میں کورونا ویکسین کے استعمال کے آغاز سے قبل ہی حکومت کو فائزر و بائیو این ٹیک نے خصوصی پیکنگ کے تحت ڈوز فراہم کردیے تھے۔

ابتدائی طور پر 30 لاکھ ڈوز صرف طبی رضاکاروں جن میں ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور ایمبولینس عملے سمیت محکمہ صحت کے عہدیدار بھی شامل ہیں، انہیں لگائے جائیں گے۔ویکسین لگائے جانے کے دوسرے مرحلے میں عمر رسیدہ افراد اور اولڈ ہاؤسز میں رہائش پذیر افراد کو ویکسین لگائی جائے گی، جس کے بعد اس ویکسین کو ایسے افراد کو لگایا جائے گا جن کے کورونا میں زیادہ متاثر ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔

امریکا سے قبل برطانیہ اور متحدہ عرب امارات میں بھی کورونا ویکسین کے عام استعمال کا آغاز ہوچکا ہے۔دنیا میں سب سے پہلے برطانیہ میں رواں ماہ 8 دسمبر کو کورونا ویکسین عام افراد کو لگائے جانے کا آغاز ہوا تھا، جس کے بعد 12 دسمبر کو متحدہ عرب امارات کی ریاست ابوظبی میں چین کی کمپنی کی کورونا ویکسین کو لگائے جانے کا آغاز ہوا۔

برطانیہ اور یو اے ای کے بعد 15 دسمبر کو امریکا میں بھی جرمن و امریکی کمپنیوں کی کورونا ویکسین کے عام استعمال کا آغاز ہوا۔اب خیال کیا جا رہا ہے کہ جلد ہی سعودی عرب، کویت، سنگاپور، کینیڈا و بحرین جیسے ممالک میں بھی ویکسین کے استعمال کا آغاز کیا جائے گا، کیوں کہ یہ تمام ممالک ویکسین کے استعمال کی منظوری بھی دے چکےہیں۔