زکام کی ’ہر فن مولا‘ ویکسین کی پہلی انسانی آزمائش کامیاب

نیو یارک: سائنسدانوں نے موسمی زکام سے بچانے کےلیے ’’یونیورسل فلو ویکسین‘‘ کی پہلے مرحلے کی طبّی آزمائشوں (فیز ون کلینیکل ٹرائلز) میں کامیابی حاصل کرلی ہے، جس کے بعد وہ اسے دوسرے مرحلے کی طبّی آزمائشیں شروع کرنے کی تیاریوں میں مصروف رہے ہیں۔

واضح رہے کہ زکام کے وائرس یعنی ’’فلو وائرس‘‘ کی سطح پر ایک خاص قسم کا پروٹین ’’ہیماگلوٹٹینن‘‘ (ایچ اے) پایا جاتا ہے۔ کوئی بھی فلو ویکسین ہمارے قدرتی دفاعی نظام کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اسی پروٹین کی بنیاد پر فلو وائرس کو شناخت کرتا ہے اور اس کا خاتمہ بھی کرتا ہے۔

البتہ ’’ایچ اے‘‘ پروٹین کا بالائی حصہ، جسے موجودہ ویکسینز ’’شناختی مقام‘‘ کے طور پر استعمال کرتی ہیں، بہت جلدی تبدیل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال موسمی زکام کا پھیلاؤ روکنے کےلیے نئی ویکسین تیار کرنا پڑتی ہے کیونکہ پچھلے سال والی ویکسین ناکارہ ہوچکی ہوتی ہے۔
کچھ سال پہلے ماہرین نے دریافت کیا تھا کہ اسی ’’ایچ اے‘‘ پروٹین کا ایک اور حصہ ’’ایچ اے اسٹیک‘‘ (HA Stack) ایسا بھی ہے جو تقریباً تمام اقسام کے فلو وائرسوں میں ایک جیسا ہوتا ہے، جو بہت کم تبدیل ہوتا ہے اور جسے فلو وائرس کی کوئی بھی قسم (strain) شناخت کرنے میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

سائنسدان چاہتے ہیں کہ زکام کی ایسی ویکسین تیار کرلی جائے جو نہ صرف زکام کی بیشتر اقسام سے تحفظ فراہم کرے بلکہ برسوں تک مفید و کارآمد بھی رہے۔ اگرچہ اب تک ایسی کوئی ویکسین تیار نہیں ہوسکی لیکن ماہرین نے اپنی اس امید کو ’’یونیورسل فلو ویکسین‘‘ (زکام کی ہر فن مولا ویکسین) کا نام دے رکھا ہے۔

اگرچہ اس وقت کئی یونیورسل فلو ویکسینز اپنی تیاری کے مختلف مراحل میں ہیں جبکہ ان میں سے بھی کم از کم تین ویکسینز فیز ون کلینیکل ٹرائل جیسے اہم مرحلے پر پہنچ چکی ہیں۔ تاہم مذکورہ ویکسین، جسے ماؤنٹ سینائی ہاسپٹل کی سربراہی میں مختلف امریکی تحقیقی اداروں نے تعاون و اشتراک سے تیار کیا ہے، اس مرحلے پر کامیاب ہونے والی سب سے پہلی یونیورسل فلو ویکسین ہے۔

اس ویکسین کے فیز ون کلینیکل ٹرائلز میں 66 رضاکار شریک کیے گئے جنہیں 5 گروپوں میں تقسیم کرکے اس ویکسین کی اثر پذیری اور کارکردگی جانچی گئی۔

ریسرچ جرنل ’’نیچر میڈیسن‘‘ کے تازہ شمارے میں ان طبّی آزمائشوں کی شائع کردہ تفصیلات سے پتا چلتا ہے کہ ویکسین لگوانے والے تقریباً تمام رضاکاروں میں 18 ماہ بعد بھی فلو وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز موجود تھیں جو ان کے قدرتی دفاعی نظام میں فلو کے خلاف سرگرمی کا پتا دے رہی تھیں۔

اگر یہ ویکسین انسانی طبّی آزمائشوں کے دوسرے اور پھر تیسرے مرحلے میں بھی اتنی ہی مؤثر ثابت ہوئی تو امید کی جاسکتی ہے کہ آئندہ پانچ سے چھ سال میں ہمارے پاس ایک ایسی فلو ویکسین موجود ہوگی جو ممکنہ طور پر کئی سال تک مؤثر رہے گی اور ہر سال زکام کے موسم میں کوئی نئی ویکسین بنانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔