کورونا کے خلاف پہلی ’اینٹی باڈی دوا‘ کی آزمائشیں جاری

کیمبرج، میساچیوسٹس: ناول کورونا وائرس (کووِڈ 19) کے خلاف بنائی گئی پہلی ’اینٹی باڈی دوا‘ کی انسانی آزمائشیں مختلف امریکی اسپتالوں میں داخل 32 مریضوں پر جاری ہیں۔

یہ دوا جسے ’’ایل وائی سی او وی 555‘‘ (LY-Cov555) کا تکنیکی نام دیا گیا ہے، کورونا وائرس سے متاثر ہو کر صحت یاب ہوجانے والے افراد کے بلڈ پلازما سے علیحدہ کی گئی اینٹی باڈیز (ضد جسمیوں) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔

یہ دوا فارماسیوٹیکل کمپنی ایلائی لِلی اور وینکوور، کینیڈا کی بایوٹیکنالوجی فرم ’’ایب سیلیرا‘‘ کے اشتراک سے صرف تین ماہ میں تیار کی گئی ہے جسے کورونا وائرس سے شدید متاثرہ مریضوں کو مختلف مقداروں (خوراکوں) میں دیا جارہا ہے۔ اگر یہ کارآمد ثابت ہوئی تو اسے جلد ہی بڑے پیمانے پر تیار کرکے فروخت کےلیے پیش کردیا جائے گا۔
واضح رہے کہ یہ دوا کورونا وائرس کا مستقل علاج ہر گز نہیں بلکہ یہ متاثرہ فرد کے جسم میں مخصوص اینٹی باڈیز کی مدد سے کورونا وائرس کے خلاف مزاحمت میں وقتی اضافہ کرتی ہے جس کے ممکنہ اثرات چند دنوں سے لے کر چند ہفتوں تک رہ سکتے ہیں۔

یہ وہی تکنیک ہے جو طبّی زبان میں ’’انفعالی امنیت‘‘ (پیسیو امیونائزیشن) کہلاتی ہے؛ جس کی اوّلین آزمائشیں اس سال چین میں کورونا وائرس سے متاثر ہو کر صحت یاب ہوجانے والے مریضوں کا بلڈ پلازما، اسی وائرس سے شدید بیمار مریضوں کو لگا کر کی گئی تھیں۔ اس بارے میں ’’ایکسپریس نیوز‘‘ نے سب سے پہلی خبر 16 فروری 2020 کو اسی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

اس وقت پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں انفعالی امنیت کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے کورونا وائرس سے شدید متاثرہ مریضوں کے علاج میں مدد لی جارہی ہے۔ تاہم یہ پہلی دوا ہے جس میں کورونا وائرس کے خلاف مؤثر اینٹی باڈیز شناخت کرنے کے بعد انہیں بڑی مقدار میں تیار کرکے بنایا گیا ہے۔

فی الحال اس کی انسانی آزمائشیں جاری ہیں، البتہ ماہرین پرامید ہیں کہ ان آزمائشوں کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے؛ اور جب تک ناول کورونا وائرس کی کوئی ویکسین دستیاب نہیں ہوجاتی، تب تک اس وبا سے حفاظت کا راستہ ضرور نکل آئے گا۔

اسی طرز پر بایوٹیکنالوجی کمپنی ’ری جینیرون‘ کے علاوہ فارماسیوٹیکل فرم ’گلیکسو اسمتھ کلائن‘ اور ’وائر بایوٹیکنالوجی‘ باہمی اشتراک سے دو علیحدہ علیحدہ اینٹی باڈی ادویہ تیار کررہی ہیں جن کی طبّی آزمائشیں (کلینیکل ٹرائلز) جلد ہی شروع ہونے کی توقع ہے۔

نوٹ: یہ خبر میساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے معتبر سائنسی جریدے ’’ٹیکنالوجی ریویو‘‘ کی ویب سائٹ پر حال ہی میں شائع شدہ ایک رپورٹ سے ماخوذ ہے۔