یہ نئی دوا خطرناک جسمانی چکنائی کو 50 فیصد کم کرتی ہے، تحقیق

نیو یارک: ماؤنٹ سینائی ہاسپٹل، امریکا کے طبّی ماہرین نے مضرِ صحت جسمانی چکنائی یعنی ’’ایل ڈی ایل کولیسٹرول‘‘ کم کرنے والی ایک نئی دوا کی کامیاب آزمائشیں مکمل کرلی ہیں جن میں اس دوا نے کولیسٹرول کے مریضوں میں ایل ڈی ایل کی مقدار 50 فیصد کم کی ہے۔

یہ دوسرے مرحلے کی طبّی آزمائشیں (فیز 2 کلینیکل ٹرائلز) تھیں جن میں 272 رضاکار شریک کیے گئے تھے۔ اس کامیابی کی تفصیلات ’’دی نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہیں۔
اب اس دوا کی حتمی، یعنی تیسرے مرحلے کی طبّی آزمائشوں (فیز 3 کلینیکل ٹرائلز) کی منظوری کےلیے متعلقہ امریکی اور یورپی اداروں میں بھی درخواستیں جمع کروا دی گئی ہیں اور امید ہے کہ اگلے سال تک یہ آزمائشیں بھی شروع کردی جائیں گی۔ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو متوقع طور پر یہ دوا 2023 یا 2024 تک مارکیٹ میں دستیاب ہوجائے گی۔’’ایویناکیومیب‘‘ (Evinacumab) کہلانے والی اس دوا کا شمار ’’مونوکلونل اینٹی باڈیز‘‘ میں ہوتا ہے جنہیں جدید طب میں بہت امید افزا قرار دیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ اگر جسم میں ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی مقدار بڑھتی رہے تو یہ رگوں کی اندرونی سطح پر جم کر خون کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈال کر پہلے بلڈ پریشر میں اضافے کا باعث بنتا ہے اور، اگلے مرحلے میں، دل کے دورے سے لے کر فالج تک کی وجہ بن سکتا ہے۔ طبّی آزمائشوں میں شریک تمام افراد کا ایل ڈی ایل کولیسٹرول بڑھا ہوا تھا اور ان پر کولیسٹرول کی موجودہ دوائیں کچھ خاص اثر نہیں کر رہی تھیں۔

272 رضاکاروں میں سے نصف کو اصل دوا جبکہ باقی نصف کو اس کے نام پر مصنوعی دوا (پلاسیبو) مختلف مقداروں میں دی گئی۔ یہ دوا گولی کی شکل میں یا پھر انجکشن کے طور پر استعمال کی گئی۔ وہ رضاکار جنہوں نے ہر ہفتے گولیوں کی شکل میں ’’ایویناکیومیب‘‘ کی 450 ملی گرام مقدار استعمال کی، ان میں 16 ہفتے بعد ایل ڈی ایل کولیسٹرول 56 فیصد تک کم ہوگیا۔ تمام رضاکاروں میں کولیسٹرول کم ہونے کا تجزیہ ’’پلاسیبو گروپ‘‘ سے موازنے کی بنیاد پر کیا گیا۔

اسی طرح پورے ہفتے میں گولیوں کے طور پر اس دوا کی 300 ملی گرام مقدار لینے والے رضاکاروں میں 16 ہفتے بعد ایل ڈی ایل کولیسٹرول میں 52.9 فیصد کمی واقع ہوئی؛ جبکہ اس سے نصف مقدار یعنی 2 ہفتے میں 300 ملی گرام ایویناکیومیب کی گولیاں استعمال کرنے والوں میں بھی ایل ڈی ایل کولیسٹرول 38.5 فیصد کم ہوا۔

انجکشن کی صورت میں یہ دوا لینے والے مریضوں کو بھی بہت افاقہ ہوا۔ ریسرچ رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ جن رضاکاروں نے 15 ملی گرام فی کلوگرام کی مقدار میں یہ دوا بطور انجکشن استعمال کی تھی، ان میں ایل ڈی ایل کولیسٹرول کم ہونے کا تناسب 50.5 فیصد رہا، جبکہ 5 ملی گرام فی کلوگرام کی شرح سے یہ دوا استعمال کرنے والوں میں ایل ڈی ایل کولیسٹرول اوسطاً 24.2 فیصد کم ہوگیا۔ کولیسٹرول کے علاج میں اس دوا کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے کیونکہ جسم میں کولیسٹرول کی مقدار کم کرکے متعدد خطرناک اور جان لیوا امراض سے بچنے میں بہت مدد ملے گی۔