ہشیار: کورونا متاثرین، ہر پانچواں شخص ذہنی مسائل کا شکار ہوسکتا ہے

عالمی وبا قرار دیے جانے والے کورونا وائرس سے متاثرہ مریض بظاہر تندرست ہو جاتے ہیں لیکن ان میں سے متعدد کے دماغی و نفسیاتی امراض میں مبتلا ہونے کے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں۔عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس ضمن میں کی جانے والی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے والے مریضوں میں سے تقریباً 20 فیصد کے اندر دماغی یا نفسیاتی مسائل جنم لے لیتے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق کورونا سے متاثرہ مریضوں میں زیادہ تر بے چینی، ڈپریشن اور بے خوابی کے مسائل سامنے آئے ہیں۔ کورونا مریضوں پر کی جانے والی تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ صحتیاب ہونے والے افراد میں 90 دن کے اندر ڈمینشیا کی علامات پیدا ہوئیں۔خبر رساں ایجنسی کے مطابق آکسفرڈ یونیورسٹی کے ماہر نفسیات پروفیسرپول ہیریسن کا کہنا ہے کہ ہماری تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے والے مریضوں میں ذہنی صحت کے حوالے سے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں ںے زور دے کر کہا کہ دنیا کے ماہرین اور ڈاکٹروں کو اس حوالے سے توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔
نفسیاتی جریدے لانسیٹ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق امریکہ کے 69 لاکھ افراد کے الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد 62 ہزار سے زائد متاثرین کورونا کا انتخاب کیا گیا۔تحقیقی رپورٹ کے مطابق انتخاب کیے جانے والے افراد کا تین ماہ تک جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آئی کہ ہر پانچ میں سے ایک فرد میں پہلی مرتبہ بے چینی، ڈپریشن اور بے خوابی کے امراض نے جنم لیا۔خبررساں ایجنسی کے مطابق اسی دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ جو افراد پہلے سے ہی ذہنی و نفسیاتی امراض کا شکار تھے ان میں عام افراد کے مقابلے میں کورونا کی تسخیص کے امکانات 65 فیصد زائد پائے گئے۔صدر شعبہ نیورولوجی آغا خان یونیورسٹی ڈاکٹر محمد واسع کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ لوگوں کی بڑی تعداد کورونا سے صحتیاب ہونے کے بعد یقین رکھتی ہے کہ وہ پوری طرح سے تندرست ہوگئے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ بات درست ہے کہ وائرس گلے سے ختم ہو جاتا ہے لیکن اس بات کے متعدد شواہد موجود ہیں کہ وائرس جسم میں موجود رہتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خاص طور پروائرس انسانوں کے نروس سسٹم میں موجود ہوتا ہے اوردماغ کو زیادہ متاثر کرتا ہے۔ڈاکٹر محمد واسع کے مطابق کم از کم 25 سے 30 فیصد ایسے افراد مطالعے میں آئے ہیں کہ وہ کووڈ 19 سے متاثر ہوئے، پھر ٹھیک ہوگئے لیکن ان میں دماغی مسائل نے جنم لیا۔
ان کا کہنا ہے کہ جو مسائل اب تک کی تحقیق میں سامنے آئے ہیں ان میں رویے کی تبدیلی، نیند کے مسائل اور ڈپریشن شامل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک مسئلہ بھی ہوتا ہے ایسے مریضوں کے ہاتھوں پیروں کی نسیں بھی متاثر ہوسکتی ہیں اور وہ کام کرنا چھوڑبھی سکتی ہیں۔ اسی حوالے سے وہ کہتے ہیں کہ مریض کے پٹھوں میں درد بھی رہنے لگتا ہے۔
ڈاکٹر محمد واسع کے مطابق کورونا سے متاثر ہونے والے مریضوں میں آئندہ تین سال تک بھی اثرات رہنے کی تحقیق سامنے آئی ہے اس لیے ضروری ہے کہ اگر ایسے مسائل سامنے آئیں تو فوری طور پر ڈاکٹروں سے رجوع کیا جائے۔