پرویز الٰہی کے شکوے ۔۔۔۔۔۔۔11سوالات

مقالہ خصوصی
ایس کے نیازی
سی پی این ای کے وفد کو ساتھ لے کر جب مکرم جناب صدر عارف نظامی صاحب اورمیں سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی صاحب سے ملاقات کے لیے گئے تو ہمیں اندازہ نہیں تھا اس ملاقات میں وہ ایسا کچھ کہہ دیں گے کہ ملکی سیاست میں بھونچال کی کیفیت پیدا ہو جائے گی۔ لیکن شاید پرویز الہی بھی طے کر چکے تھے کہ سی پی این ای جیسے موثر ادارے کے وفد سے بات کرتے ہوئے انہوں نے وہ سب کچھ کہہ دینا ہے جو انہوں نے آج تک نہیں کہا۔وہ اہتمام سے بات کر رہے تھے اور انہیں معلوم تھا آج انہوں نے کیا کچھ کہنا ہے۔ ایک آدھ مرحلے پر میری توجہ موبائل فون کی طرف ہوئی تو انہوں نے مجھے بازو سے پکڑ کر کہا : بھائی جان تسیں میرے ول توجہ فرمائو تے میری گل سنو ۔میں نے ان سے کہا : بھائی جان میری توجہ تواڈے آل ای اے ۔ ان کی باتیں صرف ہم سی پی این ای والوں نے ہی توجہ سے نہیں سنیں بلکہ پورے ملک میں توجہ سے سنی گئیں اور اب ایک بھونچال آیا ہوا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں یہ ہو کیا رہا ہے۔
لاہور سے اسلام آباد واپس آتے ہوئے دوست احباب کے فون کا تانتا بندھا تھا۔ ٹاک آف دی ٹائون ہی نہیں یہ خبر دنیا بھر میں دلچسپی اور اضطراب سے سنی گئی اور اب جاننے والے جو ٹی وی سکرینوں پر مجھے پرویز الہی صاحب کے ساتھ بیٹھا دیکھ چکے تھے جاننا چاہتے تھے کہ معاملہ کیا ہے اور پس پردہ کیا کچھ ہو رہا ہے۔اس معاملے کو سمجھنے کے لیے چند سوالات پر غور کرنا واجب ہوگیاہے۔
1۔ پہلا سوال یہ ہے کہ کیا پرویز الہی صاحب نے یہ بات غیر ارادری طور پر کہہ دی یا یہ سوچ سمجھ کر کی گئی بات ہے؟پرویز الہی کسی عام سے نو آزمودہ سیاست دان کا نام نہیں۔ وہ پنجاب کے سب سے بڑے سیاسی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں اور دھیمے مزاج کے ان سیاستدانوں میں سے ایک ہیں جو نہ بولنا چاہیں تو آپ ان سے کچھ اگلوا نہیں سکتے۔ وہ جب بات کرتے ہیں تو یہ وقتی اشتعال اور غم و غصے کے رد عمل میں نہیں بولتے بلکہ یہ ایک شعوری فیصلہ ہوتا ہے۔
2۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر یہ ایک شعوری فیصلہ ہے تو اس کا اظہار اس موقع پر ہی کیوں ہوا؟ کوئی تحریری معاہدہ تھا تو اس کی خلاف ورزی اب تو نہیں ہوئی۔ کابینہ بنے تو سال سے اوپر ہو چکا۔ چودھری صاحب اب تک تو بالکل خاموش رہے اور اب اچانک یوں بول پڑے؟
3۔ تیسرا سوال یہ ہے کہ اگر چودھری پرویز الہی بول ہی پڑے ہیں تو اب اس کے نتائج کیا ہوں گے؟ کیونکہ چودھری پر ویز الہی کی سیاست کی طاقت بھی غیر معمولی ہے۔ صرف عمران خان کی کلا ہی مضبوط نہیں بلکہ پرویز الہی صاحب کا کلا بھی مضبوط ہے۔ مضبوط کلے والا اگر یوں شکوے کر رہا ہے تو تو بات اتنی سادہ تو نہیں؟
4۔ چوتھا سوال یہ ہے کہ پر وریز الہی نے ضروری تیاری کرنے کے بعد یہ باتیں کی ہیں یا ابھی تیاری باقی ہے۔ پر ویز الہی کی طاقت محض ق لیگ نہیں ہے۔ ان کے بہت سے لوگ تحریک انصاف کے ٹکٹ پر بھی منتخب ہو چکے ہیں ۔ صرف ان کے رشتہ داروں کی فہرست بنائی جائے تو بات درجنوں میں جا پہنچے گی۔ یہ ناراضگی اگر بڑھتی ہے تو انجام کیا ہو گا؟
5۔ پر ویز الہی صاحب نے کہا ہم نے بھی کمیٹی ڈال رکھی ہے دیکھیں کب نکلتی ہے۔ سوال یہ ہے وہ کس کمیٹی کا ذکر کر رہے ہیں۔انہوں نے یہ کمیٹی صرف پنجاب میں ڈالی ہے یا وفاق میں بھی ڈال رکھی ہے؟یا جڑواں شہروں میں مشترکہ طور پر ڈال رکھی ہے۔اس کمیٹی کا حجم کیا ہے؟
6۔ چھٹا سوال یہ ہے کیا واقعی تحریک انصاف کی طرف سے چودھری صاحب کے ساتھ کوئی تحریری معاہدہ ہوا تھا کہ اتنے اضلاع میں وزیر اعلی مداخلت نہیں کرے گا؟ کیا ایسا کوئی معاہدہ آئین کی نظر میں ایک معتبر معاہدہ قرار پائے گا؟ وزیر اعلی کے آئینی اختیارات کو کیا ایسے کسی معاہدے کے ذریعے قانونی طور پر محدود کیا جا سکتا ہے؟
7۔ کیا وجہ ہے کہ صوبوں میں معاملات گرفت سے نکلتے نظر آ رہے ہیں۔ پنجاب میں پرویز الہی خفا ہیں اور کے پی میں تین وزراء کو کابینہ سے فارغ کرنا پڑ گیا ہے؟
8۔ چودھری پرویز الہی نے بطور خاص کہا کہ حلیفوں کے بارے میں بد گمانیاں نہیں رکھنی چاہیں ۔ سوال یہ بھی ہے کہ ان کا اشارہ کس طرف ہے اور کس کو کس سے کیا بد گمانی تھی؟
9۔یہ بھی حیرانی کی بات ہے کہ سپیکرپنجاب اسمبلی ،سپیکر بلوچستان،اور سپیکرکے پی کے ایک ساتھ خفگی کااظہار کررہے ہیں؟
10۔ ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ اس اظہار شکوہ و شکایت کا محرک حلیفوں کی داخلی سیاست ہے یا اس میں مسلم لیگ ن بھی کہیں متحرک ہے جسے دکھ ہے کہ پنجاب میں اس کی اکثریت تھی اور حکومت بنانے کا پہلا حق اسی کا تھا جیسے نواز حکومت نے کے پی کے میں تحریک انصاف کا یہ حق تسلیم کیا تھا؟
11۔پر ویز الہی صاحب نے اس ملاقات میں بطور خاص آصف زرداری صاحب کی تعریف کی ، گیارواں سوال گویا یہ ہوا کہ اس کی کیا وجہ ہے۔ اسمبلی میں ہم دیکھ رہے ہیں پیپلز پارٹی والے پنجابی میں بڑی دھواں دھار تقاریر کرتے ہیں اور سپیکر چودھری پرویز الہی مسکراتے رہتے ہیں۔ تو یہ معاملہ کیا ہے؟
سوالات تو بہت سارے ہیں ۔تاہم یہ تاثر بھی ہے کہ معاملات ابھی سنبھالے جا سکتے ہیں۔ پرویز الہی صاحب نے کہا کہ عمران خان ایک دیانت دار آدمی ہیں۔ گویا بات ابھی عمران خان کی پنجاب ٹیم سے خفگی تک محدود ہے ۔ اسے سنبھالا جا سکتا ہے اور اس کا اشارہ پرویز الہی صاحب نے خود بھی دیا کہ ہم حلیف ہیں کسی ایک کا نقصان ہوا تو دوسرے کو بھی ہو گا۔اس بات کو مثبت انداز سے سمجھا جانا چاہیے ۔ چلتے چلتے میں نے پوچھا کہ پرویز الہی صاحب آپ کو حکومت کے ساتھ کھڑے ڈیڑھ سال سے اوپر ہو چکا ہے یہ معاہدہ اور اس کی خلاف ورزی کی بات آپ اب کیوں کر رہے ہیں اس سے پہلے تو آپ نے کبھی نے نہیں بتایا کہ ایک ایسا معاہدہ موجود ہے جس پرمیرے اور تحریک انصاف کے وزیر اعلی کے دستخط موجود ہیں ۔ وہ مسکرا کر کہنے لگے کہ اس سے پہلے سردار خان نیازی ہمارے پاس آئے کب تھے کہ ہم یہ بات کرتے۔وہی بات کہ پرویز الہی جب تک کچھ کہنا نہ چاہیں آپ ان سے کچھ اگلوا نہیں سکتے اور جب کہنے پر آ جائیں تو ایسا کچھ کہہ جاتے ہیں کہ بندہ حیران رہ جائے۔ ہم بھی اس تقریب سے لوٹے تو حیران تھے۔بلکہ حیران و پریشان تھے۔

مزید تازہ ترین خبریں