حکومت پی ڈی ایم کے جلسے کی نہیں عوامی مسائل کی فکر کرے

میں ہمیشہ اپنے آبائی شہر میانوالی جاتا ہوں مگر اب جب میرا وہاں جانا ہوتا ہے تو ایسی لگتا ہے جیسے میں کسی قبل از مسیح کی بستی میں داخل ہو گیا ہوں ہر جانب موہن جوداڑو کے مناظر نظر آتے ہیں ،سڑکوں کی حالت انتہائی ابتر ہے ،لائٹس نا پید ہیں ،حادثات کے بہت اسباب ہیں ، اس جانب کوئی توجہ نہیں دی جارہی ، سفر کرتے ہوئے بھی خوف آتا ہے البتہ وزیراعظم عمران خان نے اپے حلقے میں کچھ کام کیا ہے ، جب کہ شہر میانوالی ویران پڑاہوا ہے ہو کا عالم ہے ، جب میں نمل یونیورسٹی پہنچا تو چکڑالہ لوگ میرے پاس آ کر جمع ہو گئے، اور انہوں نے مسائل کے انبار لگا دیئے، لوگ انتہائی پریشان اور کمسپرسی کے حالات میں اپنی زندگی گزار رہے ہیں تلہ گنگ کا برا حال ہے ۔ہم یہاں یہ کہتے ہیں کہ صرف گفتار کا غازی ہونا اچھی بات نہیں ، کام کر کے دکھانا ہو گا، وزیر اعظم کو عوامی مسائل کا ادراک ہونا انتہائی ضروری ہے ، آپ جناب کپتان صاحب پی ڈی ایم کے جلسے سے پریشان نہ ہوں یہ لوگ مہنگائی یا عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے نہیں بلکہ اپنی کرپشن کو بچانے کے لیے متحد ہوئے ہیں ، مگر لمحہ فکریہ تو بھی ہے ، کہ حکومت آج تک کرپشن کی مد میں ان لوگوں سے دس روپے بھی وصول نہیں کرسکی ،اپوزیشن نے جو جرائم کیے ان کے کھاتے میں چپڑاسی ، ریڑھی بان اور سبزی فروشوں کے نام سے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی ہے اس کے تمام تر ثبوت موجود ہیں لیکن حکومت آج تک ان کو سزا نہیں دے سکی ، معیشت کی بہتری کی جانب کوئی توجہ نہیں جب ہم معاشی طور پر مضبوط ہونگے تو ہمارا دفاع بھی مضبوط اور ملک بھی مستحکم ہوگا، عوام خوشحال ہونگے،اس وقت ملک میں سول اداروں کا حال برا ہے ،در حقیقت وزیر اعظم عمران خان کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن سول ادارے ان سے قابل ذکر تعاون نہیں کررہے ، حکومت کی جانب سے بے سروپا قد غنیں اس کی سبکی کا باعث بنتی ہیں جیسے کے موٹر وے کا کیس ہوا اور اس پر پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی جانب سے میڈیا کوریج پر پابندی عائد کی گئی جس کا ہمیں بے حد قلق تھا گو کہ انصاف کے حصول کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور اللہ رب العزت کی ذات نے مجھے اس میں سرخرو کیا ، میڈیا کی آزادی کا علم بلند کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہا ،یوں بھی خبر دینا ایک صحافی کا طرہ امتیاز ہوتا ہے اور قدرت نے مجھے اپنے کرم سے یہ صلاحیت ودیعت کی ہے کہ میں اپنے قارئین اور ناظرین کو ہمیشہ قبل از وقت آگاہ رکھتا ہوں حیرانگی کی یہ بات ہے کہ عثمان بزدار نے پابندی لگائی اور جب موٹر وے کا مرکزی ملزم عابد ملہی گرفتار ہوا تو حکومت ہی کے وزراء نے پابندیوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے خوب اس خبر کا پر چار کیا کیونکہ یہ ان کے حق میں تھی ، ہم یہ کہتے ہیں کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے ، یہ کہیں کا بھی اصول نہیں کہ میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو تھو ،جب پابندی لگائی توخود بھی اس پر کاربند رہتے میڈیا کا کیوں گلا گھونٹا گیا، اسی طرح عوام کے مسائل درپیش ہیں مہنگائی اتنی منہ ذورہو چکی ہے کہ غریب تو سکتے کی حالت میں چلا گیا ہے ، اس کے لیے دو وقت درکنار ایک وقت کی روٹی بھی میسر کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے کیا یہ ہی جمہوریت کا حسن ہے تو اسکا جواب نفی میں ہے جمہور کو خوار کر کے رکھ دیا گیا ہے، نہ نوکریاں ہیں ،نہ صاف پینے کا پانی میسر ہے ، نہ ہی اشیائے خوردونوش سستی ہیں ہتہ کہ حکومت کے اپنے یوٹیلٹی سٹورز پر بھی مہنگائی کر دی گئی، پرائیویٹ سیکٹر کا تو پھر اللہ ہی مالک ہو گا، کیا اس ملک میں ایسا کوئی نظام موجود ہے جو مسائل کو حل کر سکے،وزیراعظم کے ارد گرد خوشامدیوں کا ٹولہ موجود ہے اور اس نے عمران خان کو بھی خوشامد پسند بنا دیا ہے ، بس یہیں سے تباہی کی بنیاد شروع ہو تی ہے، کیونکہ جب سب اچھا کی رپورٹ آنا شروع ہو جائے لیکن حقیقت میں انتہائی زبوں حالی ہو تو پھر غریب عوام کس کے در پر جا کر اپنا رونا روئے ،حکومت کو ان حقائق کو تسلیم کرنا ہو گا ،عوام کو ریلیف دینا ہو گا،اس کو بنیادی سہولیات فراہم کرنی ہونگی، جو وعدے کیے تھے انہیں پورا کرنا ہو گا، تب شاید آگے سلسلہ رواں دواں ہو سکے ، گو کہ اپوزیشن سڑکوںپر نکل آئی ہے یہ صورت بھی کوئی اتنی حکومت کے حق میں نہیں ہے ، لیکن جب حکومت کی جانب سے کرپشن کیخلاف کارروائی لیت و لال سے کام لیاجائے تو پھر اسی طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑے گا ،جب تک عوام خوشحال نہیں ہونگے اس وقت تک جمہوریت کا پنپنا بھی مشکل ہو جائیگا،نظام کو درست کرنے کی ضرورت ہے اوپر سے لے کر نیچے تک اوور ہالنگ ہوگی تب ہی حالات بہتر ہو سکتے ہیں ، عمران خان میں یہ صلاحیت موجود ہے وہ ہمیشہ برے حالات میں بھی مستقل مزاجی سے ڈٹے رہے اور یہ ہی خاصہ ہے جو ان کو کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے ، گو کہ آج حالات دگرگوں ہیں لیکن اس کے باوجود ملک میں سرمایہ کاری آرہی ہے جو کہ عوام کی دلچسپی کا مظہر ہے ، بس مصداق اس کے کہ ”ذرا نم ہو یہ مٹی تو بڑی زرخیز ہے ساقی ”یعنی کہ عوام خوشحال ، ملک خوشحال، حکمران خوشحال، جمہوریت قائم ، ملک میں سکون ۔