آئی ایم ایف کی شرائط میں نرمی پر آمادگی ظاہر کر نے کا عندیا، مفتاح اسماعیل کا بڑا دعویٰ

حکومت مشاورت کے بعد بھارت سے درآمدات بارے فیصلہ کرے گی، مفتاح اسماعیل

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہاہے کہ دسمبر تک ایک ارب ڈالرز کے بانڈز واجب الادا ہیں،واجب الادا بانڈز کی واپسی مقررہ وقت پر کی جائے گی ۔
وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے وزیراعظم اور آئی ایم ایف کی سربراہ سے ملاقات کے بارے میں بتایا کہ آئی ایم ایف نے اگلی قسط کی رقم کا حجم بڑھانے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اپنے بیان میں کہاہے کہ پاکستان کو درپیش موسمیاتی آفات کے باعث مشکلات کا سامنا ہے ،پیرس کلب کے قرض دہندگان سے باہمی بنیادوں پر قرض معاف کرایا جائے گا،ان کاکہناتھا کہ یورو بانڈز کے قرض دہندگان اور کمرشل بینکوں سے قرض معاف نہیں کرایا جارہا،کمرشل بینکوں سے قرض معاف کرانے کی ضرورت نہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی بینک سے اس سال کے آخر تک 2 ارب ڈالر لے لیں گے، سیلاب کے بعد پاکستان کے حالات بدل گئے ہیں، کپاس اور گندم کی فصلیں تباہ ہوئیں تو ہمیں دونوں چیزیں درآمد کرنا پڑ سکتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا میرا کام سیلاب زدگان کے لیے رقم جمع کرنا ہے، بل گیٹس سے بھی امداد کی بات کی ہے، ہر سیلاب متاثر تک نہیں پہنچ سکے مگر کرپشن کی بات جھوٹی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا عمران خان ذرا سی دھمکی پر گڑگڑا کر معافی مانگ لیتے ہیں، عمران خان اتنے خطرناک ہیں کہ سب سے معافیاں مانگتے ہیں، ان کی فکر نہیں ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہاکہ دسمبر تک ایک ارب ڈالرز کے بانڈز واجب الادا ہیں،واجب الادا بانڈز کی واپسی مقررہ وقت پر کی جائے گی ،مفتاح اسماعیل نے کہاکہ ہم اب تک اپنے تمام کمرشل قرضوں کی ادائیگی کرتے رہے ہیں،قرضوں کی ادائیگی آئندہ بھی جاری رہے گی۔
ان کاکہناتھا کہ 2051 تک پاکستان یوروبانڈ کا قرض 8 ارب ڈالرز ہے،اس قرض کا ایک بڑا حصہ دوست ممالک کا ہے،دوست ممالک نے پاکستان کیلئے قرض ادائیگیوں کو ری رول کرنے کی یقین دہائی کروائی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں