صوفیہ مرزا کی بچیوں کی حوالگی کا مقدمہ، توہین عدالت کی درخواست واپس لینے پر خارج

صوفیہ مرزا کی بچیوں کی حوالگی کا مقدمہ، توہین عدالت کی درخواست واپس لینے پر خارج

اداکارہ صوفیہ مرزا کی بچیوں کی حوالگی سے متعلق مقدمے میں سپریم کورٹ نے توہین عدالت کی درخواست واپس لینے پر خارج کر دی۔

جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے صوفیہ مرزا کی بچیوں کی حوالگی سے متعلق مقدمے کی سماعت کی، سماعت کے دوران عدالت نے اداکارہ اور اس کے وکلاء کی سرزنش کی۔

دوران سماعت جسٹس سردار طارق مسعود نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک وکیل لاہور سے تو دوسرا یہاں عدالت میں دلائل دے رہا ہے، دونوں وکلاء کی خاتون موکلہ صوفیہ مرزا بھی بار بار مداخلت کر رہی ہے، پہلے فیصلہ کر لیں دلائل کون دے گا، جس فیصلے کو جواز بنا کر توہین عدالت کی درخواست کی گئی اس پر عمل ہو چکا ہے۔

جسٹس سردار طارق مسعود نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے سمری پر دستخط کر دیے ہیں، وزارت خارجہ بچیوں کی متحدہ عرب امارات سے واپسی کے معاملہ پر اقدامات اٹھا رہی ہے، بچیوں کی واپسی کے لیے پوری حکومتی مشینری ہل کر رہ گئی ہے۔

بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے ڈی جی ایف آئی اے کو ہر 15 دن بعد بچیوں کی واپسی سے متعلق پیشرفت رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا، اور مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں