آج مشہور زمانہ ادیب، افسانہ و ڈرامہ نگار اشفاق احمد کی 18ویں برسی منائی جا رہی ہے

آج مشہور زمانہ ادیب، افسانہ و ڈرامہ نگار اشفاق احمد کی 18ویں برسی منائی جا رہی ہے

آج اردو اور پنجابی کے مشہور زمانہ ادیب، افسانہ و ڈرامہ نگار، دانشور اور براڈ کاسٹر اشفاق احمد کی 18ویں برسی منائی جا رہی ہے، آپ 7 ستمبر 2004ء کو اس عالمِ فانی سے عالم بقا کی طرف کوچ کر گئے تھے۔

معروف ادیب اشفاق احمد نے 22 اگست 1925ء کو مکتسر ضلع فیروز پور میں آنکھ کھولی، انہوں نے دیال سنگھ کالج اور اورینٹل کالج لاہور میں تدریس کا فریضہ سرانجام دیا۔

اشفاق احمد کا شمار ان عہد ساز ادیبوں میں ہوتا ہے جو قیام پاکستان کے ساتھ ہی ادبی افق پر نمایاں ہوئے، 1953ء میں ان کا افسانہ گڈریا ان کی شہرت کا عنوان بنا، آپ کی ادارت میں ‘داستان گو’ اور ‘لیل و نہار’ نامی رسالے شائع ہوتے رہے، ان کے افسانوی مجموعوں میں ایک محبت سو افسانے، اجلے پھول، سفر مینا، پھلکاری اور سبحان افسانے شامل ہیں۔

خیال رہے کہ ایک محبت سو افسانے اور اجلے پھول ان کے اولین افسانوی مجموعوں میں سے ہیں، بعد ازاں سفر در سفر (سفرنامہ)، کھیل کہانی (ناول)، ایک محبت سو ڈرامے (ڈرامے) اور توتا کہانی (ڈرامے) سے انہیں شہرت دوام نصیب ہوئی۔

حکومت پاکستان نے انہیں ان کی ادبی خدمات کے صلے میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی، ستارہ امتیاز اور ہلال امتیاز کے اعزازات سے نوازا تھا، صوفی مزاج رکھنے والے اشفاق احمد کی 7 ستمبر 2004ء کو لاہور میں اپنے گھر ‘داستان سرائے’ میں وفات ہوئی، آپ ماڈل ٹائون کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں