روزانہ قہوے کا استعمال، اچانک اور جلد موت واقع ہونے کے خدشات کم

روزانہ قہوے کا استعمال، اچانک اور جلد موت واقع ہونے کے خدشات کم

ایک نئی تحقیق سے پتا چلایا گیا ہے کہ روزانہ قہوے کے استعمال سے اچانک اور جلد موت واقع ہونے کے خدشات کم ہو جاتے ہیں۔

امریکا کے نیشنل اِنسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے کینسر انسٹیٹیوٹ کا کہنا ہے کہ وہ لوگ جو ہر روز دو یا دو سے زیادہ کپ قہوہ پیتے ہیں ان کی جلد موت آنے کے امکانات (9 فیصد سے 13 فیصد تک) کم ہو جاتے ہیں، مگر اس بات سے کسی قسم کا فرق نہیں پڑتا کہ چائے پینے والے نے اپنی چائے میں دودھ یا چینی ملائی یا نہیں یا وہ گرم گرم چائے پیتے ہیں یا اسے ذرا ٹھنڈا ہونے دیتے ہیں، تحقیق کے مطابق چائے کا یہ فائدہ ان لوگوں میں بھی دیکھا گیا جو کافی پینے کے عادی ہیں۔

اینلس آف اِنٹرنل میڈیسن جرنل میں شائع شدہ تحقیق پر محققین کا اتفاق تھا تحقیق کے نتائج چائے پینے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور یہ کہ قہوے کو ایک صحت مند غذا کا لازمی حصہ بننا چاہیے۔

خیال رہے کہ اس سے پہلے قہوے کے فوائد پر زیادہ تر مطالعات چین یا جاپان میں ہوئے ہیں جہاں عموما سبز قہوہ پیا جاتا ہے، یہ مذکورہ بالا تحقیق برطانیہ میں ہوئی ہے جہاں عام طور پر کالی پتی کا قہوہ نوش کیا جاتا ہے۔

تازہ ترین تحقیق کے مطابق قہوے کا زیادہ استعمال امراضِ قلب، وقف الدم (دل میں خون کی کمی کے نتیجے میں ہونے والا مرض) اور فالج کے باعث ہونے والی اموات کے خطرات میں کمی لاتا ہے۔

تاہم ماکی اِنوئی-چوئی کی رہنمائی میں انجام پانے والی اس تحقیق میں یہ واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ قہوے کا سرطان کے امکانات میں کمی سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔

مذکورہ تحقیق میں 40 سے 69 سال کی عمر والے 4 لاکھ 98 ہزار 43 مرد و خواتین نے شرکت کی، شرکاء کی تحقیق کے دوران تقریباً گیارہ سالوں تک نگرانی کی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں