امریکی ماہرین کا مقناطیس کی بدولت پانی سے آکسیجن الگ کرنے کا تجربہ کامیاب

امریکی ماہرین کا مقناطیس کی بدولت پانی سے آکسیجن الگ کرنے کا تجربہ کامیاب

امریکی ماہرین کا مقناطیس کی بدولت پانی سے آکسیجن الگ کرنے کا تجربہ کامیاب رہا ہے، جس کے بعد اس کامیابی کو کیمیا کی دنیا میں ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

کامیاب تجربے کے مطابق خرد ثقلی (مائیکروگریویٹی) کے ماحول میں مقناطیسی قوت سے آکسیجن کشید کی جا سکتی ہے، یوں پانی سے آکسیجن الگ کرنے کا ایک سستا اور سہل طریقہ سامنے آ سکے گا جس سے خلانوردوں کو بہت سہولت ہو جائے گی۔

جارجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے منسلک ‘ایلویرو رومیر کالوو’ کا کہنا ہے کہ "بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں انسانوں کے لیے الیکٹرولائٹک سیل سے پانی کو ہائیڈروجن اور آکسیجن میں تقسیم کیا جاتا ہے، تاہم یہ مہنگا اور طویل طریقہ ہے۔” دوسری طرف ناسا کے ماہرین کے خیال میں پانی سے آکسیجن بنانے والی روایتی ٹیکنالوجی سے مریخ کا طویل سفر ناممکن ہو جائے گا، کیونکہ اس صورت میں پانی کا بھاری بوجھ ساتھ اٹھانا پڑے گا اور بجلی کی بیٹریاں الگ سے چاہییں ہوں گی۔

خلا میں کشش ثقل نہ ہونے کی بنا پر پانی سے آکسیجن الگ کرنا کٹھن ترین ہوتا ہے، زمین کی کشش کی بدولت ہی ہم ٹھنڈی بوتلوں کے اوپر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے بلبلے تیرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں، لیکن خلا میں یہی بلبلے پانی کے اندر چکر لگاتے رہتے ہیں، چنانچہ اس کے لیے مرکزِ گریز (سینٹری فیوج) قوت چاہیے ہوتی ہے تاکہ جھاگ نما بلبلوں کو ایک جگہ اکٹھا کیا جا سکے۔

پھر مقناطیس کو خلا جیسے حالات میں آزمانے کے لیے امریکی ماہرین نے جرمنی میں مائیکروگریویٹی کے ایک مرکز میں تجربات کیے۔ یہ 146 میٹر لمبا سائنسی ٹاور ہے جس میں ایک کیپسول گھومتا ہے اور کچھ لمحوں کے لیے ثقل کمزور ہوتی ہے، جبکہ بعض اوقات تو 9.2 سیکںڈ کے لیے ثقل کمزور پڑ جاتی ہے۔

اس  کے بعد کمپیوٹر ماڈل اور دیگر تجزیاتی عوامل کے ذریعے مقناطیس کی بدولت پانی سے بلبلے کھینچ نکالنے کا کامیاب تجربہ کیا گیا، جس کے بعد امکان ہے کہ یہ انقلابی ٹیکنالوجی ایک بہت سہل طریقے سے پانی سے آکسیجن بنا سکے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں