اقوام متحدہ اور پاکستان

سیلاب متاثرین کے لئے 37 ارب کے امدادی پروگرام کا آغاز

دنیا کا کوئی ملک بھی اقوام متحدہ کی اہمیت اور افادیت سے انکار نہیں کرسکتاہاں البتہ اس کے کچھ اقدامات پر تحفظات کا اظہار ضرور کیا جاسکتا ہے جیسا کہ مظلوم کشمیری گزشتہ 75سالوں سے اپنے مسئلے کے حل کیلئے اقوام متحدہ کی جانب دیکھتے چلے آرہے ہیں اور اپنے حق خودارادیت کے ملنے کے منتظر ہے مگر اس کے باوجود ان کی امیدوں کا محور اب بھی اقوام متحدہ ہی ہے ، پاکستان اقوام متحدہ کا ہمیشہ سے فعال ممبر رہا ہے اور اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے اقوام عالم کے مابین پائے جانے والے تنازعات کے حل کیلئے سرگرم کردار ادا کرتا ہے ، پاکستانی افواج اقوام متحدہ کے امن افواج کا حصہ ہیں اور دنیا میں جہاں کہیں شورش برپا ہو وہاں پر پاکستانی فوج کو بھجوانے کیلئے ترجیح دی جاتی ہے کیونکہ یہ جہاد فی سبیل اللہ کے موٹو پر عمل پیرا ہے، پاکستان کے اندر اقوام متحدہ کے زیر انتظام چلنے والے ادارے اپنی اپنی جگہ رہ کر بہترین کام انجام دے رہے ہیں ، خواہ وہ صحت کامیدان ہو یا تعلیم کا یا کوئی اور پروگرام ہو ، گزشتہ روز وزیرِ اعظم شہباز شریف سے اقومِ متحدہ کے پاکستان میں ریذیڈنٹ کوارڈینیٹر جولین ہارنئیس کی ملاقات ہوئی ۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی تعاون کے شعبوں میں فعال کردار ادا کر رہا ہے،پاکستان بھر میں حالیہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو انسانی بنیادوں پر ریلیف کی فراہمی ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ پاکستان اقوام متحدہ کے کام میں خاص طور پر امن قائم کرنے، انسانی ہمدردی کی کارروائیوں، ماحولیاتی تبدیلی اور پائیدار ترقی کے لیے بین الاقوامی تعاون کے شعبوں میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کے لیے پاکستان کے پختہ عزم پر زور دیا۔ شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے ایجنڈے 2030اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کی جانب پاکستان کی پیشرفت کی حمایت میں اقوام متحدہ کے اہم کردار کو سراہا۔ اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر نے عالمی ادارہ کی جانب سے کورونا وبا سے لچکدار بحالی اور پائیدار ترقی کے لیے پاکستان کی جاری کوششوں میں مسلسل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ خیال رہے کہ جولین ہارنئیس جنوری 2020 سے پاکستان میں اقوامِ متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر کے طور پر اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔وہ اقوامِ متحدہ کی کنٹری ٹیم، جس میں تمام UN ایجنسیاں، فنڈز، پروگرام شامل ہیں ، کی سربراہی کر رہے ہیں اور پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات اور منصوبوں سے اقوامِ متحدہ کے ملک میں اقدامات کی ہم آہنگی یقینی بنا رہے ہیں۔اقوام متحدہ کا ہمیشہ سے پاکستان پر فوکس رہا ہے ، اس کے ساتھ ساتھ ترکی سے آنے والے ایک وفد کا ذکر بھی ہوجائے ، ترکی پاکستان کا برادر دوست ملک ہے جس کے ساتھ ہمارے لازوال رشتے قائم ہیں ، ترکی نے پاکستان کو تعلیم ، دفاع اور کئی دیگر شعبوں میں اپنا تعاون فراہم کیا ہے اور پاکستان کے تجربات سے بھی فائدہ اٹھایا ہے ، گزشتہ روز وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ترکیہ سے تعلق رکھنے والی کمپنی لیماک کے ایک وفد نے اسلام آباد میں ملاقات کی ۔ وفد کے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ترکی اور پاکستان کے درمیان دوستانہ تعلقات ہیں اور دونوں ممالک تجارت ، سرمایہ کاری ، توانائی اور مواصلات کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں ۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ ترکی کے حالیہ دورے کے دوران انکی ترکی کے تاجروں سے ملاقاتیں بہت کامیاب رہیں اور یہ بات خوش آئند ہے کہ ترکی کی کمپنیز پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھ رہی ہیں ۔ ترکی اور پاکستان کے درمیان حال ہی میں ترجیحی تجارتی معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں جس سے گڈز، سروسز اور سرمایہ کاری کے حوالے سے نئی راہیں استوار ہوئی ہیں;اس معاہدہ کے بعد پاکستان ترکی مشترکہ تجارت کا حجم مزید بڑھ جائیگا۔ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول موجود ہے اور ہماری حکومت تمام پروجیکٹس کی بروقت تکمیل پر یقین رکھتی ہے اور یہ یقینی بنایا جاتا ہے کہ پروجیکٹس کی تکمیل کے عمل میں شفافیت کی ملحوظ خاطر رکھا جائے ۔لیماک کے وفد نے پاکستان میں پن بجلی کے شعبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا ۔ترکی جانب سے پاکستان میں بجلی کی کمی کو پورا کرنے کیلئے نئے منصوبوں کی پیشکش یقینا ایک خوش آئند اقدام ہے کیونکہ اس وقت پاکستان بجلی کی کمی کے بحران میں گھرا ہوا ہے ، اگر یہ سرمایہ کار اپنا سرمایہ پن بجلی کے شعبے میں لگانے کیلئے تیار ہیں تو جہاں یہ ان کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگا وہاں پاکستانی قوم کیلئے بھی بہترہوگا۔
عمران خان کو اپنے رویئے پر نظر ثانی کرنے کا مشورہ
سابق وزیر اعظم چار سال تک حکومت میں رہنے کے باوجود بھی پاکستان کے آئینی اداروں کی بالادستی کو تسلیم کرنے سے انکاری نظر آتے ہیں حالانکہ اتنے بڑے منصب پر رہنے والی شخصیت کو قانون کا احترام ایک عام شہری کی نسبت زیادہ کرنا چاہیے کیونکہ اگر قومی اداروں کا احترام ختم ہوجائے تو پھر ملک میں باقی کچھ نہیں بچتا ، اس وقت سابق وزیر اعظم کو فارن فنڈنگ جیسے حساس کیس کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جس کیلئے تحقیقاتی کمیٹی کا سامنا کرنا ضروری ہے ،یہ تو ایک عام سے بات ہے کہ اگر کسی شخصیت پر الزام لگے تو اسے اپنی صفائی کیلئے کمیٹی کے سامنے حاضر ہونا پڑتا ہے مگر عمران خان اپنے آپ کو ہر چیز سے ماورا اور بالاتر سمجھتے ہیں ،اب ایف آئی اے کے معاملے کو لے لیں تو اس میں انہوں نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں تحقیقات کے دوران وفاقی تحقیقاتی ادارے کے نوٹس کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کو جواب بھجوایا، تحریری جواب ایف آئی اے کمرشل بینک سرکل، اسلام آباد کی ڈپٹی ڈائریکٹر آمنہ بیگ کو بھجوایاگیا۔ جس میں انہوں نے نوٹس بھجوانے کو ایف آئی اے کی بدنیتی قرار دے دیا۔عمران نے تحریری جواب میں بتایا کہ آپ کو جوابدہ ہوں نہ ہی معلومات فراہم کرنے کا پابند ہوں، دو دن میں نوٹس واپس نہ لیا تو قانون کے تحت آپ کے خلاف کارروائی کروں گا، پی ٹی آئی سے تفصیلات اور دستاویزات طلب کرنا ایف آئی اے کے زیراثر ہونے کا مظہرہے، الیکشن کمیشن نے فیصلہ نہیں دیا بلکہ رپورٹ جاری کی۔اب اگر عمران خان تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوتے یا تحریری طور پر اپنا جواب نہیں دلواتے تو ایکس پارٹی کے تحت اگر ان کیخلاف فیصلہ آتا ہے تو اس پر واویلا برپا کریں گے اور اسے اپنے خلاف انتقامی کارروائی قرار دیں گے ، عمران خان ایک ذمہ دار شخصیت ہیں اور ذمہ دار عہدوں پر رہ چکے ہیں ، انہیں اپنے رویئے میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ۔
سپہ سالار کو ملنے والا اعزاز قوم کیلئے باعث فخر
ہماری افواج ہمارا فخر اور مان ہیں وہ ہمارے سرحدوں کے محافظ ہیں ہم تو ان کے صلاحیتوں کے معترف ہیں ہی مگر جب بین الاقوامی سطح پر کوئی ملک یا ادارہ ہماری افواج کی تعریف کرتا ہے تو اس سے پوری قوم کو خوشی ہوتی ہے، متحدہ عرب امارات(یو اے ای) نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو امارات کے دوسرے اعلی ترین اعزاز "آرڈر آف دی یونین”سے نوازا دیا ۔متحدہ عرب امارات کی جانب سے ملنے والا اعزاز نہ صرف افواج پاکستان کیلئے بلکہ پور ی قوم کیلئے ایک خوشی کی بات ہے کہ برادر ملک نے پاکستانی فوج کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا اور اسے اعزاز سے نوازا ،امید کرتے ہیں کہ پاکستانی فوج مزید ایسے اعزازات دنیا بھر سے حاصل کرتی رہے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں