چارٹر آف اکانومی، ایس کے نیازی کی سنجیدہ تجویز

سیلاب متاثرین کے لئے 37 ارب کے امدادی پروگرام کا آغاز

ایس کے نیازی کا شمار ملک کے جہاندیدہ اور سکہ بند صحافیوں میں کیا جاتا ہے ، ان کے تجزیوں اور تبصروں اور ان کی ٹی وی شوز کو ملک کے بااثر حلقوں میں نہایت دلچسپی سے دیکھا جاتا ہے کیونکہ ملکی سیاست پر ان کی گہری اور عمیق نظر ہوتی ہے ، وہ اپنے پروگراموں میں ، تجزیوں اور کالموں بغیر لگی لپٹی رکھے بعض باتیں ایسی کہہ جاتے ہیں جو ارباب اختیار کے دل پر اثر کرتی ہیں اور پھر ان کی کہی گئی بات پر ملکی پالیسی مرتب کی جاتی ہے ، ان کی کئی خبروں پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے سوموٹو ایکشن لیا اور پھر انصاف کا عملی جامہ پہنایا ، اسی طرح پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں جب دہشتگردی کیخلاف فوج جنگ میں مصروف تھی اس وقت وہ ملک کے واحد صحافی تھے جنہوں نے افواج پاکستان کے تنخواہوں میں فوری طور پر اضافے کا مطالبہ کیا جو حکومت وقت نے تسلیم کیا اور تنخواہوں میں سو فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ، ابھی چند روز پیشتر ایس کے نیازی نے اپنے ایک کالم میں چارٹر آف اکانومی کی بات کی اور مشورہ دیا کہ اس میں ملکی تمام سیاسی جماعتوں کو شریک کرکے ملکی معیشت کو بہتر بنانے کیلئے جامع پالیسی مرتب کی جائے ، کل روز ٹی وی کے شو میں اسی چارٹر آف اکانومی پر بات کرتے ہوئے پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روزنیوز کے چیئرمین نے پروگرام ” سچی بات “ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرا پروگرام سچی بات ہے ،میں اس لئے سچی بات کرتا ہوں، سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے 75سالہ آزادی کی تقریب میں ہر طبقہ ہائے فکر کے لوگوں کو مدعو کیا ، جو پیغام موجودہ پیکر نے کیا وہ کبھی کسی نے نہیں کیا، راجہ پرویز اشرف کے اقدام قابل تحسین ہیں، معیشت کی حالت خراب ہے ، میںچارٹر آف اکانومی کے حوالے سے لکھ چکا ہوں، یہ معاہدہ ایسا ہو جو نیشنل سکیورٹی کونسل کے تحت سپریم کورٹ ، آرمی چیف دیگر فورسز کے سربراہان اور اپوزیشن لیڈر اس میں شامل ہو تا ہے ، کسان کارڈ ایشو جاری کریں، کسان کارڈ فراہم کریں، تاکہ کسان اب بھی زندگی بسر کر سکیں، وزیر اعظم نے معیشت پر وہی بات کی جو میں نے اپنے آرٹیکل میں لکھی، میں نے غیاث الدین جو اینگرو کے صد ر ہیں ان کا انٹرویو کیا، وزیر اعظم نے آف دی ریکارڈ میرے آرٹیکل کا ذکر کیا، معیشت اور سیاست آپس میں مل کر نہیں چل سکتی، ہم اپنے پاﺅں پر کھڑے ہونے کی شروعات بھی نہیں کر سکے، معیشت مضبوط ہے تو سب کچھ درست ہے ، زراعت کی طرف ہماری توجہ نہیں ، سیاحت کو کوئی نہیں پوچھ رہا، سیکیورٹی حالات مشکل ہیں، ہمارے قو ل و فعل میں تضاد ہے ، آئی ایم ایف سے جان نہیں چھڑا سکتے مگر ابتداءتو کریں کہ پاﺅں پر کھڑے ہوں، سٹاک مارکیٹ کا اوپر جانا ملک کے بہتر ہوتا ہے ، سرمایہ کاروں کیلئے ایک اچھا پیغام جاتا ہے ، اس وقت رئیل اسٹیٹ میں اربوں کے فراڈ ہیں، زمین نہیں ہے اور فائلیں فروخت کر دی جاتی ہیں، ہاﺅسنگ سوسائٹیوں میں اربوں کے فراڈ ہوئے ، چارٹر آف کانومی بنالیں پھر بھی قانون سازی کیلئے پارلیمنٹ جانا ہو گا، صدر او آئی سی سی غیاث الدین خان نے کہا کہ گزشتہ پندرہ سال میں فرٹیلائزر کی صنعت میں اضافہ ہوا، یہ کمیوڈٹی بزنس ہے ، روس اور یوکرین کی جنگ کی وجہ سے یوریا مہنگی ہو گئی اور اس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، ہم فرٹیلائزر کو سستا بیچ رہے ہیں، اس طریقے سے ہم نے ڈالر کو بچایا، یہ سیکٹر اچھی پرفارمنس سے بہترین کردار ادا کر سکتا ہے ،ا ینگرو کی گروتھ میں اسد عمر کا بہت بڑ اکردار ہے ، سیاست اور معیشت پر الگ سے بات کریں گے ، ہمارا فسکل نقصان اور کرنٹ اکاﺅنٹ ڈیفیسٹ ہے ان کو پورا کرنے کیلئے ٹیکس کولیکشن بڑھانا ہوگی، بھارت کے ٹیکس جی ڈی پی 20فیصد ہے ، ہماری ایکسپورٹ 2012اور 2013میں پچیس ملین کے لگ بھگ تھی، اب اس میں اضافہ ہو رہا ہے ، کرنٹ اکاﺅنٹ خسار ہ پورا کرنے کیلئے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے ، اگر ہم کوئلہ سے 20سال پہلے بجلی بناتے تو ہم پانچ ملین ڈالر بچا سکتے تھے، میں سیاست اور معیشت کو الگ الگ دیکھتا ہوں، عوام کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہو گا، چارٹر آف کانومی ایسی چیز ہے جس کو سیکورٹی کونسل کے تحت چلایا جا سکتا ہے ، ملک میں جب بزنس آنا شروع ہو گا تو ہمیں ایکسپورٹ بھی بڑھا سکیں گے ، لانگ ٹرم پالیسیاں دینا ہوںگی پھر پاکستان میں سرمایہ کاری آئے گی ، مہنگائی کنٹرول کرنا ہو گی، مختلف صنعتوں کیلئے طویل المدت پالیسیاں لازمی ہیں، سرمایہ کاروں کے تحفظات دور کرنا ہونگے ، پرائیویٹائزیشن اچھا اقدام ہے ، آپ دیکھ لیں کتنے ادارے پرائیویٹ ہوئے ان سے فائدہ ہی ہوا ہے ، جو کمپنیاں پرائیویٹ ہوئیں ان کی پرفارمنس بہترین رہی ، پاکستان میں کس سمت میں جانا ہے اس ڈائریکشن کاتعین کرنا بہت ضروری ہے ، پرائیویٹ سیکٹر کی حوصلہ افزائی کی جائے ، دنیا بھر میں ڈالر کرنسی کی حیثیت سے مضبوط ہوا، انٹرسٹ ریٹ بڑھے گا تو دنیا بھرمیں ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوا، ڈالر کے مقابلے میں ہماری کرنسی کی حیثیت کم ہوئی، اب ڈالر صحیح قیمت کی طرف آرہا ہے ، پاکستان کی سٹاک مارکیٹ سب سے زیادہ قابل ذکر ہے ، معیشت میں غیر یقینی صورتحال تھی، انٹرسٹ ریٹ بڑھے تو اس سے سٹاک مارکیٹ پر برے اثرات پڑے ، آئی ایم ایف سے ملنے والی مدد کی وجہ سے ہم ڈیفالٹ سے نکل جائیںگے، معیشت کی ڈاکومینٹیشن ہونا انتہائی ضروری ہے ، صنعت کو مضبوط کرنے کیلئے پیداواری سیکٹر کا آگے لانا ہو گا، ٹیکس نیٹ کو بڑھانا ہوگا رئیل سٹیٹ کو مکمل طور پر دستاویزی بنانا ہوگا، ہمارا فوکس معیشت پر ہونا چاہئے ، معیشت کو سیاست کی بھینٹ پر نہیں چڑھانا چاہئے ، ہمارے پاس نادرا کا ڈیٹا بیس موجود ہے، احساس پروگرام کا ڈیٹا موجود ہے ، راست اکاﺅنٹ موجود ہے ، مقصد یہ ہے کہ تمام چیزوں کو ڈاکومینٹڈ کرنا ہوگا، چارٹر آف اکانومی کا مشور ہ ملکی معیشت کو بہتر بنانے کیلئے ایک اہم قدم ثابت ہوگا ، ایس کے نیازی کی بات کو سنجیدگی سے لینا موجودہ حکومت کے سنجیدہ پن کو ظاہر کرتا ہے ، وقت آگیا ہے کہ ارباب اختیار مل کر اس کو قومی جامہ پہنائے اور ملک کو قرضوں کے جنجال سے چھٹکارا دلائیں۔
بھارتی یوم آزادی پر کشمیریوں کا یوم سیاہ
بھارت دنیا کا غاصب ملک ہے جس نے کشمیریوں کی حق خودارادیت کو گزشتہ 75سالوں سے غصب کررکھا ہے اور اسلحہ و گولہ بارود کے زور پر اس مسئلہ کو حل نہیں دے رہا مگر سلام ہے نہتے کشمیریوں کی جرات کو کہ جو خالی ہاتھوں سے دنیا کے اس بڑی طاقت سے اپنے حق کے حصول کیلئے لڑتے چلے آرہے ہیں ، تحریک آزادی کیلئے کشمیر کے 5لاکھ سے زائد جوان جام شہادت نوش کرچکے ہیں ، کشمیری ہر سال لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے چلے آرہے ہیں جس کا مقصد عالمی ضمیر کو جھنجوڑنا ہے۔ اس بار بھی دنیا بھر موجود کشمیریوں نے بھارتی یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منایا اور بھارتی مظالم دنیاکے سامنے بے نقاب کیا ، اس موقع پر وزیراعظم آزادجموں وکشمیر سردار تنویرالیاس خا ن نے کہا ہے کہ کشمیریوں کا ہندوستان کا آزادی یوم سیاہ کے طور پر منانا ہندوتوا کے جبر کے خلاف نفرت کا اظہار ہے،لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں جہاں بھی کشمیری مقیم ہیں ہندوستا ن کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا، کشمیریوں کا یہ انداز بھارتی مظالم اور ان کا حق خود ارادیت سلب کرنے کے خلاف احتجاج ہے تاکہ وہ دنیا کو بھارتی جارحیت پر متوجہ کر کے اپنے حق خود ارادیت کے لئے آواز بلند کرسکیں۔ بھارت جبری طور پر کشمیریوں پر اپنی مرضی نہیں تھوپ سکتا، بھارت مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، حق خودارادیت کے حصول تک کشمیری اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بھارت کے یوم آزادی کے موقع پرکشمیریوں کی جانب سے منائے گئے یوم سیاہ کے موقع پر اپنے خصوصی بیان میں کیا۔ وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں مسلسل ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے، عالمی دنیا مقبوضہ کشمیر میں مظالم پر خاموش تماشائی ہے۔وزیراعظم آزادکشمیر سردار۔تنویر الیاس نے کہا کہ اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر پر اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کروائے.ایشیاء میں ترقی کا واحد راستہ مسئلہ کشمیر سے گزرتا ہے۔کنٹرول لائن کی دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر من ارہے ہیں۔اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں کو اب سوچنا ہوگا کہ کب تک کشمیریوں سے ان کے حق خودارادیت کو چھینے رکھیں گے اور انہیں اپنے مستقبل کا فیصلہ نہیں کرنے دیں گے ، کشمیر کا فیصلہ برصغیر کے امن کا فیصلہ ثابت ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں