یوم آزادی، کشمیر کو فراموش نہ کریں

یوم آزادی، کشمیرکوفراموش نہ کریں

الحمد اللہ آج ہماری زندگی میں 14 اگست ایک بار پھر آیا ہے، آج دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانی اور اہل وطن مل کر ہم آواز ہوکر پاکستان کا76 واں ”یوم آزادی منا رہے ہیں، 14 اگست 1947ءکو،ہمارے بزرگوں نے بانی پاکستان قائداعظمؒ کی قیادت اور”آل انڈیا مسلم لیگ“ کے پرچم تلے جدوجہد کے بعد انگریز اور ہندو سامراج سے آزادی حاصل کی تھی اِس سے قبل ہندوﺅں کی دہشت گرد تنظیم ”راشٹر سیوم سیوک سنگھ“ ، متعصب ہندو جماعت ”انڈین نیشنل کانگریس“ سکھوں کے مسلح جتھوں اور دوسری غیر مسلم تنظیموں نے مختلف صوبوں میں 18 لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کا قتل عام کِیا اور 95 ہزار سے زیادہ عفت آماب مسلم خواتین کے اغواءاور ان کی عزتوں پر حملے ہوئے مشرقی پنجاب میں سِکھوں نے 10 لاکھ مسلمانوں کو شہید کِیا اور 55 ہزار مسلمان عورتوں کو اغواءکر کے اُن کی عصمت دری کی، ہمارے بزرگ ہمیں تحریک پاکستان کے دوران ہونے والے ایسے واقعات سنایا کرتے تھے، اس وقت بھی اور آج بھی جب ان واقعات کی جانب ذہن جاتا ہے تو جسم میں ایک سنسنی پیدا ہوجاتی ہے، میں ان تمام شہداءکو عقیدت بھرا سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے ہمارے مستقبل کے لیے اپنا سب کچھ قربان کیا یہ شہداءہمارے دلوں میں بستے ہیں اور حیات ہیں، اللہ ان کے درجات بلند کرے ۔آمین
بزرگوں کی سنائی ہوئی بے شمار کہانیوں میں ایک کہانی آج بھی یاد ہے دو اڑھائی سو مسافروں (مہاجروں) کی ٹرین قصور کیلئے روانہ ہُوئی تو راستے میں ہر ریلوے سٹیشن پر کرپانیں لہراتے اور ”ست سری اکال، جو بولے سونہال“ کے نعرے لگاتے ہُوئے سِکھوں نے ٹرین کو روکنے کی کوشش کی لیکن ٹرین کے محافظ فوجی دستے کی مزاحمت سے اُنہیں ٹرین پر حملہ کرنے کی جُرات نہیں ہُوئی فیروز پور سٹیشن سے کچھ فاصلہ پہلے ٹرین کے ڈرائیور کو گاڑی روکنا پڑی کیوں کہ اُس سے آگے سِکھوں نے ریل کی پٹڑی کو اُکھاڑ دِیا تھا۔ ٹرین کے محافظوں نے تمام مسافروں کو ایک کھلے میدان میں جمع کیا، مغرب کا وقت ہو چکا تھا اور اندھیرا پھیلنا شروع ہوا تو سخت طیش میں دکھائی دیتے ہوئے سِکھوں کے کئی جتھے مسلمانوں پر ٹوٹ پڑنے کو تیار تھے کہ اچانک ٹرکوں پر سوار ”بلوچ رجمنٹ“ (BALOCH REGIMENT) کے افسران اور جوان ”نعرہ تکبیر۔ اللہ اُکبر“ کی گونج میں وہاں پہنچ گئے یہ ہے پاکستان کی فوج۔ یہ ہے ہماری اپنی محسن فوج، اپنی پاک فوج کو ہر دم سلام، تحریک پاکستان کے دوران ہر مسلمان نے قریہ قریہ جا کر قائداعظمؒ اور مسلم لیگ کے پیغام کو مختصر معنوں میں لوگوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کِیا، تحریک پاکستان کے کارکن، درگاہ مجدد الف ثانی، سرہند شریف کے قاضی ظہور الدین، ِ محترم جمیل اطہر قاضی کے چچا، نے اپنے علاقے اور اپنے دور میں نظریہ پاکستان کو فروغ دیا،قائداعظمؒ کے سپاہی، تحریک پاکستان کے (گولڈ میڈلسٹ) کارکن ڈاکٹر سیّد علی محمد شاہ امرتسری اور پیمرا کے چیئرمین پروفیسر مرزا محمد سلیم بیگ کے والد محترم مرزا شجاع اُلدّین بیگ امرتسری کا آدھے سے زیادہ خاندان سِکھوں سے لڑتا ہُوا شہید ہوگیا تھا نامور قانون دان اور اپنے وقت کے بڑے سیاسی کارکن ملک حامد سرفراز (مرحوم) اور ان جیسے بے شمار لوگ تحریک پاکستان کے نامور کارکن رہے، آج بھی ہمیشہ دل سے دعا نکلتی ہے اے وطن تیرے پیاروں کی خیر ہو، آج 14 اگست کو ”شہدائے تحریک پاکستان کو خراج عقیدت پیش کرنے کا دن ہے،وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کا 76واں یوم آزادی ہم ایسے ماحول…. میں منار رہے ہیں کہ ہمارے ملک کی سرحدوں پر ماضی کی طرح آج بھی خطرات ہیں، ہم اندورن ملک بھی عدم سیاسی استحکام سے دوچار ہیں، آج اس لیے اتحاد، یقین اور تنظیم جیسے فرمان پر عمل کرنے کے عہد کا دن ہے، ملی یک جہتی اور یگانگت کے جذبے عام کرنے کا دن ہے ملکی سلامتی و استحکام کے تقاضوں کے تحت ہمیں آج مکار دشمن بھارت کی ان سازشوں کو بھی پیش نظر رکھنا ہے جس نے ہمیں آج تک دل سے تسلیم ہی نہیں کیا تین سال قبل پانچ اگست کو اس نے اپنے ناجائز زیرتسلط کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرکے اور اسے بھارتی سٹیٹ یونین کا حصہ بنا کر یہ ثابت کیا کہ وہ اہل پاکستان اور اہل کشمیر کا کھلا دشمن ہے اس لیے تو ہم نے یوم آزادی سے ہفتہ بھر پہلے استحصالِ کشمیر منا یا ہے اور کل 15 اگست کو دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری اور پاکستانی عوام بھارتی یومِ جمہوریہ کو یومِ سیاہ کے طور پر منائیں گے جس کے دوران اقوام عالم میں بھارتی جبروتسلط کو اجاگر کیا جائے گا اور مسئلہ کشمیر کے یواین قراردادوں کے مطابق حل کیلئے زور دیا جائے گا،آج یوم آزادی بابائے قوم قائداعظم محمدعلی جناح کے ویژن کے مطابق مادر وطن کو امن‘ ترقی اور خوشحالی کا گہوارہ بنانے کے پختہ عزم کی تجدید کے ساتھ قومی و ملی جوش و جذبے سے منایا جارہا ہے آج دن کا آغاز مساجد میں نماز فجر کے بعد ملک و قوم کی سلامتی اور ترقی و خوشحالی کی دعاﺅں سے ہوا ہے،یہ حقیقت تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہو چکی ہے کہ متعصب ہندو اکثریت نے مسلم دشمنی کے باعث برصغیر کے مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کیا تو بر صغیر میں دو قومی نظریے کی بنیاد رکھی گئی جو بعد میں تحریک پاکستان کی بھی بنیاد بنی اور بالآخر قیام پاکستان پر منتج ہوئی‘ جس میں قائداعظمؒ کی بے مثال جرائت مند نڈر قیادت میں ایک ایسے جدید اسلامی فلاحی جمہوری معاشرے کی تشکیل اور اس آزاد و خودمختار پاکستان کا تصور متعین ہوا‘ جس میں مسلمانوں کو نہ صرف مکمل مذہبی آزادی حاصل ہو گی بلکہ انہیں اقتصادی غلامی کے شکنجے میں جکڑنے والی ہندو بنیا ذہنیت اور انگریز کے ٹوڈی جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے استحصال سے بھی نجات ملے گی پاکستان مسلم لیگ(ضیاءالحق شہید) بانی پاکستان حضرت قائد اعظم کے ویژن کے مطابق ملک کی ترقی اور خوشحالی اور استحکام کے لیے کام کر رہی ہے اس مملکت خداداد میں اللہ کے خوف کی صفت کے ساتھ خلقِ خدا کا راج چاہتی ہے اور اسی کے لیے جدوجہد کر رہی ہے قیام پاکستان کے مقاصد‘ اس کے نظریہ اور نظام کے حوالے سے قائداعظم کے ذہن میں کوئی ابہام نہیں تھا چنانچہ وہ قیام پاکستان کی جدوجہد کے دوران ہر مرحلے پر مسلمانانِ برصغیر اور دنیا کو قیام پاکستان کے مقاصد سے آگاہ کرتے رہے آج جو دانشور حلقے نظریہ پاکستان اور قیام پاکستان کے مقاصد کے حوالے سے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت حقائق کو مسخ کرکے پیش کر رہے ہیں‘ انہیں اسلامیہ کالج پشاور میں قائداعظم کی 13 جنوری 1948ءکی تقریر کے یہ الفاظ ذہن نشین کرلینے چاہئیں کہ ”ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کیلئے نہیں کیا تھا‘ بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے‘ جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں۔“بدقسمتی سے قائد اعظم محمد علی جناح کی رحلت کے بعد پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ بنانے کے بجائے سیاست کے کھوٹے سکوں نے اپنے مفادات اور مسائل کی آماج گاہ بنا دیا ہے اج اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم قائداعظم کے صحیح جا نشین ثابت ہوں تاکہ ملک میں خوف خدا رکھنے والی جمہوریت مضبوط ہوتی رہے‘ یہ بھی حقیقت اپنی جگہ پر موجود ہے ہے کہ پاکستان کو طویل عرصہ دہشت گردی کے ناسور کا سامنا بھی رہا جسے پاک فوج نے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی مگر وہ دہشت گرد اب بھی اپنے آقاﺅں کے احکامات کی بجاآوری میں خال خال دہشت گردی کے واقعات…. کا ارتکاب کرتے ہیں ان کا پشتیبان بلاشبہ بھارت ہے اس دشمن بھارت کی سازشوں کو ٹھوس حکمت عملی اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹ کر ناکام بنانے کی ضرورت ہے۔ بھارت میں اس وقت پاکستان دشمن ہندو انتہا پسندوں کی نمائندہ جماعت بی جے پی کی مودی سرکار کی جانب سے پاکستان کی سلامتی کیخلاف جو گھناﺅنی سازشیں کی جا رہی ہیںاور شہ رگ پاکستان کشمیر کو مستقل طور پر ہڑپ کرنے کے لئے بھارتی فوجوں اور پیراملٹری فورسز نے مقبوضہ وادی کو گزشتہ سات عشروں سے وحشیانہ انداز میں کشمیریوں کا عرصہ حیات تنگ کیا ہوا ہے‘ اس کے پیش نظر آج یوم آزادی کے موقع پرقوم اور حکومت کی جانب سے کشمیری عوام کو ان کی جدوجہد کے ساتھ یکجہتی کا پیغام دینا اور ملک کی سلامتی و خودمختاری کے تحفظ کے لئے بھی پوری قوم کا یکجہت ہونا اور اس کے ساتھ ساتھ قیام پاکستان کے مقاصد سے بالخصوص نئی نسل کو آگاہ رکھنا اور بھی ضروری ہے بھارتی شرارتوں سے نمٹنے کیلئے ہمیں اس وقت قائداعظم کے وژن پر عمل کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ کشمیر کے بغیر پاکستان کا وجود مکمل نہیں ہو سکتا لہٰذا کشمیر میں استصواب کے لئے عالمی قیادتوں اور نمائندہ عالمی اداروں کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری کشمیر پالیسی میں کسی قسم کا ابہام پیدا نہ ہونے دیا جائے آج وطن عزیز کے 76 ویں یوم آزادی کے موقع پر ہمیں اپنا جائزہ لینا ہے کہ ہماری ترجیحات کی سمت کیسے درست ہوسکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں