سیاست دان معیشت کی طرف توجہ دیں

مہنگائی کا ذمہ دارکون….؟

گز شتہ دنوں افغانستان میں القاعدہ کے لیڈر ایمن ال ازواری ڈرون حملے میں جاں بحق ہوگئے۔ڈرون حملے کے بارے میں کسی نے بھی ذمہ داری قبول نہ کی۔ اس سے کچھ دن پہلے بھی افغانستان میں ڈرون حملوں میں کئی لوگ جاں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اگر ہم افغانستا ن جنگ اوروہاں پر ڈرون حملوں کے ماضی قریب کا تجزیہ کریں تو افغانستان میں 400 ڈرون حملوں میں کئی لوگ جاں بحق ہوئے ہیں۔ دوسری اگر ہم اس جنگ سے پاکستان کے جانی اور مالی نقصان پر غور کریں توامریکہ کی دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کو 140 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، 80 ہزار بے گناہ لوگ شہید ہوئے ۔ اور اس پرائے جنگ کے عوص پاکستان کو صرف 12 ارب ڈالر ملے ۔ اس وقت افغانستان میں اور دنیا کے دیگر ممالک میں پاکستان کا پر سپشن PERCEPTION ٹھیک نہیں اور افغانستان کے کئی ٹی وی چینلز، وہاں کے لکھاری اور سوشل میڈیا پروگراموں میں پاکستان پر حد سے زیادہ تنقید ہوتی رہتی ہے، اور یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان کو جنگ کے علاوہ اور کوئی طریقہ آتا نہیں ۔ پاکستانی حکومت اور خاص طور پر مسلح افواج کے تعلقات عامہ کے سنیر اہل کاروں نے اس امکان کو رد کیا کہ گویا افغانستان میں ڈرون حملے پاکستان سے ہورہے ہیں۔ اگر ہم ٹھنڈے دل و وماغ سے سوچیں تو اس وقت پاکستان کسی بھی ملک اور خاص طور پر کسی کے ساتھ جنگ مول نہیں سکتاور ہمیں کوشش کرنا چاہئے کہ ہم علاقائی اور بین اقوامی سطح پر تنا زعات سے دور رہیں اورکسی قسم کے متنا زعہ بحث اور معاملات میں نہ پڑیں جس سے خا ص طور پر یہ تاثر ہو کہ پاکستان اپنے پڑوسیوں کے معامالات میں مداخلت کر رہا ہے۔ اگر ہم غور کریں تو عمران خان کے دور میں ڈرون حملوں کا سلسلہ بالکل رک گیا تھا مگر جب سے وزیر اعظم شہباز شریف نے باگ ڈور سنبھالی ہے تو اسکے بعد افغانستان میںڈرون حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ میں اس قطعی اس رائے پر یقین نہیں رکھتا کہ گویا یہ حملے شہباز شریف کے کہنے یا ایما پر ہو رہے ہیں۔ مگر اسکے با وجود پاکستان پر انگلیاں اُٹھ رہی ہیں۔اگر ہم پاکستانی معیشت کا تجزیہ کریں تو پاکستانی معیشت انتہائی نا گفتہ بہہ حالت میں ہے اور سب سے زیادہ زور ہمیں اپنی معیشت پر دینا چاہئے ۔ بد قسمتی سے معیشت اس وقت تک ترقی کر نہیں سکتی جب تک وطن عزیز کے اندرونی اور پڑوس میں امن و آمان نہ ہو۔ اگر خدانخواستہ پاکستان دشمن طاقتوں نے خود کش اور دوسرے حملے شروع کئے تو پھر ہم اس کو کسی صورتAFFORED اپورڈ نہیں کر سکتے۔ میں پاکستان سیاستدانوں سے خواہ انکا تعلق حکومتی پارٹی سے ہو یا اپوزیشن سے کہ وہ آپس میں کھینچا تانی چھوڑ دیں اور ملک کی بقا استحکام اور مضبوطی کےلئے اقدامات کریں۔ کیونکہ جنگ و جدل قومیں تباہ بر باد ہوجاتی ہیں۔ جنگ و جدل سے کبھی بھی قو میں اور ریاستیں فلاح نہیں پاتی۔ پاکستان کے ساتھ اور پاکستان کے بعد کئی ممالک دنیا کے نقشے پر معرض وجود میں آئے مگر یہ انتہائی بد قسمتی ہے کہ ان ممالک میں پاکستان اقتصادی لحاظ سے بہت کمزور اور مفلوک الحال ہے۔اگر ہوسکے تو ہمیں امریکہ کے ساتھ ساتھ دوسرے پڑوسی ممالک جس میں چین، افغانستان ، بنگلہ دیش ، روس اور بھارت شامل ہیں انکے ساتھ بھی تعلقات ٹھیک رکھنے چاہئے۔ ہمیں بنگلہ دیش کی طرح نیوٹرل پالیسی اختیار کرنا چاہئے ۔ جنگ افراتفری اور لیگ پلنگ کبھی بھی ملکی اور عالمی سطح پر مسائل کا حل نہیں ہوسکتا ۔ہمیں زیادہ زور عوام اور پاکستان کی معیشت پر دیناچاہئے۔ جب تک ہمیں اوپر جنگ مسلط نہ ہوجائے اُس وقت تک پاکستان کو جنگ سے دور دور بھاگنا چاہئے۔ اس وقت پاکستان کے میزائیل اور اٹیمی ہتھیار کی شکل میں DETTERANCE موجود ہے ۔ کوئی مائی کالال پاکستان کا بال بیکا نہیں کر سکتا۔ اس وقت پاکستان کی وفاعی پوزیشن مستحکم ہے مگر بد قسمتی سے اقتصادی اور مالی پوزیشن ٹھیک نہیں جو کہ ٹھیک کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ میں سول اور ملٹری لیڈر شپ سے استد عاکرتا ہوں کہ وہ پاکستان میں مختلف شعبوں کو مستحکم کرنے کے لئے تھنک ٹینک بنائیں تاکہ وہ ہر شعبہ جس میں زراعت، تعلیم، دفاع، اقتصادیات، روز گار، سائنس اور ٹیکنالوجی شامل ہیں انکو مزید مظبوط بنائیں۔ قوم اس وقت سیاسی پارٹیوں کا مذاق مزید بر داشت نہیں کر سکتی۔ جس فضول انداز اور طریقے سے ہمارے سیاست دان ایک دوسرے اور اداروں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں اس قسم کے رویوں سے پاکستان عالمی سطح پر ایک مذاق بن گیا۔ قوم دو وقت روٹی کے لئے حیران اور پریشان ہیں اور ادھر ہمارے سیاست دان پی ڈی ایم اور تحریک انصاف کی شکل میں ایک دوسرے کے ساتھ حکومتوں کے بنانے ، بگاڑنے اور کرسی کے حصول کے لئے لگے ہوئے ہیں۔ ملکی مسائل کو حل کرنے کے لئے آل پارٹیز کانفرنس بلانی چاہئے تاکہ پاکستان کے مسائل حل کرنے کے لئے ایک مشترکہ حکمت عملی طے کی جائے۔ایک دوسرے کے ٹانگیں کھینچنے کے بجائے ملکی معیشت طرف توجہ دیں۔ کیونکہ ملک کے ۲۲ کروڑ عوام غُربت ، افلاس اور بے روز گاری کی چکی میں بُری طرح پِس رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں