پرامن یوم عاشور کا انعقاد ، ادارے مبارکباد کے مستحق

ملک بھر بشمول آزاد کشمیر و گلگت بلتستان میں عشرہ محرم الحرام نہایت امن اور سکون کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا، پاکستان بھر کے مسلمانوں نے نواسہ رسول ﷺ جگہ گوشہ بتول کی کربلا کے میدان میں دی جانے والی قربانی کو بھرپور انداز سے خراج تحسین پیش کیااور ان کی یاد کو تازہ کیا، اس موقع پر ملک بھر میں جلوس،تعزیئے برآمد کئے گئے اور امام عالی مقام کی یاد میں سیمینار ،کانفرنسیںمنعقد کی گئی جس میں فلسفہ حسینی بیان کیا گیا اور بتایا گیا کہ یزید کی حکومت محض چند دن تک تھی جبکہ امام عالی مقام اور اہل بیت کی قربانیاں قیامت تک زندہ اور یادگار رہیں گی، واقعہ کربلا دراصل حق اور باطل کا معرکہ تھا جس میں فتح امام عالی مقام کو حاصل ہوئی ، آپ اپنے موقف پر سر اٹھاکر ڈٹے رہے اور یزیدی افوا ج کے سامنے سر نہ جھکایا اور قیامت تک آنے والی نسلیں انسانی کو یہ سبق دیا گیا کہ ظالم اور جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق بلند کرنا اعلیٰ ترین جہاد ہے اور یزیدی حکمرانوں کے سامنے سر نہ جھکانا ہی اسوہ حسینی ہے ، امام عالی مقام کے خانوادہ پر یزیدی افواج نے کیا کیا ظلم نہ ڈھایا ، ان پر پانی تک بند کردیا گیا ، معصوم بچوں کو یزیدی افواج نے معاف نہیں کیا مگر امام عالی مقام کے خانوادے نے یزیدی افواج کی اطاعت اور بیعت قبول نہیں کی ، امام عالی مقام کی لاڈلی اور پیاری صاحبزادی جناب بی بی سکینہ اور شہزادگان علی اکبراورعلی اصغربہادر اور جری عباس علمدار پر مظالم کی انتہا کردی مگر ان کی وفاو¿ں میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ، یہ دراصل ایک امتحان تھا جس کا مقصد قیامت تک آنے والی امت کو یہ بتانا تھا کہ اسلام کا راستہ حق کا راستہ ہے جس پر چل کر ابدی کامیابی مسلمانوں کا مقدر ہے جبکہ اس کے مقابلے میںباطل قوتوں کی حکومت محض چند روزہ ہوتی ہے جس پر چل کر اپنی عاقبت خراب اور تباہ کرنے کے مترادف ہے ،

اس موقع پر ملک بھر سخت حفاظتی اقدامات کئے گئے تھے ، پولیس ، رینجرز افواج پاکستان کے دستوں کے علاوہ ہیلتھ سروس ، ریسکیو 1122اور دیگر تمام سرکاری محکمہ جات ہمہ وقت چوکس رہے ، اس موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف نے پرامن یوم عاشور پر وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ اور تمام صوبائی حکومتوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ شکر ہے کہ عاشورہ پرامن ماحول میں منعقد ہوا اور کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا، پولیس ، رینجرز سمیت تمام ادارے مبارکباد اور شاباش کے مستحق ہے کہ جنہوں نے دن رات سخت گرمی اور مشکل حالات میں عوام کی جان و مال کی حفاظت کی ، یوم عاشور کے حوالے سے پنجاب کے صوبائی وزیر راجہ بشارت نے کہا کہ پنجاب بھر سے کسی ہنگامہ آرائی یا گڑبڑ کی اطلاع نہیں ملی ، وزیر اعظم شہباز شریف نے یوم عاشور پر اپنے پیغام میں کہا کہ یوم عاشور حق اور باطل کے اس لازوال معرکے کی یاددلاتا ہے جب سیدنا امام حسین ؓ نے باطل کی اطاعت سے انکار کیا اور حق کی سربلندی کیلئے بظاہر اپنے سے کئی گنا طاقتور گروہ سے مقابلہ کیا ، شہادت امام عالی مقام امت مسلمہ کیلئے ایک عظیم درس ہے ، ہم سب کو چاہیے کہ ان کے فلسفہ شہادت کو اپنے لئے مشعل راہ بنائے اور حق کی سربلندی کیلئے ہر قسم کی آزمائش کا جواں مردی اور استقامت کے ساتھ مقابلہ کرے ۔ ماضی کی طرح اس با ر بھی یوم عاشور پر تمام افسران جلوس کے اختتام تک جلوسوں کے ہمراہ رہیں اور جلوسوں کے پر امن انعقاد کیلئے ہمہ وقت کوشاں رہیں ، محرم میں سب سے مشکل ڈیوٹی پولیس کی ہوا کرتی ہے اور یہ کئی کئی گھنٹے مسلسل ڈیوٹی پر مامور رہتے ہیں مگر ان کے حوصلے اور مورال میں کسی بھی قسم کی کمی واقع نہیں ہوتی ،چنانچہ اپنی فورس کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے آئی جی پنجاب فیصل شاہکار نے عشرہ محرم الحرام کے دوران بہترین سیکیورٹی انتظامات یقینی بنانے پر پولیس فورس کو شاباش۔ دی ہے جلوسوں ومجالس کے فول پروف سیکیورٹی انتظامات پر پولیس کے جوان شاباش کے مستحق ہیں۔ پولیس، ٹریفک کے جوان، سیف سٹی، سپیشل برانچ، سی ٹی ڈی سمیت تمام فیلڈ فارمیشنز 24 گھنٹے ہائی الرٹ رہے۔ پنجاب پولیس نے مجموعی طور پرصوبہ بھر میں جلوس ا9292 ور37223مجالس کو فول پروف سکیورٹی فراہم کی۔ پاکپتن میں بھی حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رح کے سالانہ عرس پر بھی سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے۔ عشرہ محرم کے دوران جذبہ خدمت کے تحت پنجاب پولیس نے اپنے فرائض سر انجام دئیے۔ تمام مکاتبِ فکرکے علمائ، امن کمیٹیوں اور شہریوں کے تعاون سے رواداری اور باہمی ہم آہنگی کی فضا برقرار رہی
شہباز گل کی گرفتاری ایک جائز اقدام
پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما ڈاکٹر شہباز گل کو وفاقی دارالحکومت کے ضلعی عدالت نے دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا ہے ، اس موقع پر تفتیشی افسر نے عدالت سے استدعا کی کہ گرفتار ملزم سے اس کا موبائل برآمد کرنا ہے اور اس کے مزید ساتھیوں کا بھی پتہ چلانا ہے ، شہباز گل کو منگل کے روز اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں در ج کی جانے والی ایک ایف آئی آر کے بعد گرفتار کیا گیا تھا ، ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک نجی ٹی وی چینل پر بیٹھ کر افواج پاکستان کے چھوٹے افسران کو اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف بغاوت پر اکسانے کی کوشش کی جس پر قانون حرکت میں آیا اور انہیں حراست میں لے لیا گیا گوکہ دس محرم کے باعث شہر میں موبائل سروس بند تھی مگر اس کے باوجود نجی ٹی وی چینلز کے توسط سے یہ خبر پورے ملک میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور حکومت کے اس اقدام کو انتقامی کارروائی سے تعبیر کیا گیا ، اس گرفتاری کا سب سے بڑا ری ایکشن حکومت پنجاب کی جانب سے دیکھنے میں آیا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے پنجاب بھر میں موجود مسلم لیگ ن کے عہدیداران کو گرفتار کرنے کا عندیہ ظاہرکیا اور مرکزی حکومت کو الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا اگر چار گھنٹوں کے اندر شہباز گل کو رہا نہ کیاگیا تو پنجاب کے اندر تمام مسلم لیگی رہنماو¿ں کو گرفتار کرلیا جائے گا، وزیر اعلیٰ پنجاب نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ اپنی وفاداری شو کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ بنی گالہ کو سی ایم کے کیمپ آفس ڈکلیئر کیا جارہا ہے اور اس کی تمام تر سیکورٹی پنجاب پولیس کے حوالے کی جارہی ہے ،

تحریک انصاف کے دیگر قائدین کی جانب سے بھی اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ شروع ہوگیا مگر رات گئے تک سارے معاملات سامنے آنے پر وزیراعلیٰ پرویز الٰہی نے شہباز گل کی جانب سے پاک فوج کے خلاف نجی ٹی وی پر بیٹھ کر دیئے جانے والے بیانات کی نہ صرف مذمت کی بلکہ یہاں تک کہا کہ اسے تحریک انصاف سے نکال دیا جائے ، ان کی جلد بازی ملک میں نئے انتشار اور اداروں کے آپس میں ٹکراو¿ کو جنم دیتی مگر شکر ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انہیں حقیقت سے آگا کردیا چنانچہ انہوں نے مسلم لیگ ن کے تمام عہدیداروں کو گرفتار کئے جانے کا بیان بھی واپس لے لیا ہے ، سیاست میں آپس کی مخالفت ایک معمول ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں آپ قومی اداروں کے اندر انتشار پھیلائے اور انہیں تباہ کرنے کی سازش کرے ، شہباز گل سے کی جانے والی تحقیقات سے سارے معاملات کھل کر سامنے آجائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں