زود گو نسّاخ اور ان کے’’دفترِ بے مثال‘‘ کا تذکرہ

عبدُالغفور نسّاخ اردو شعر و ادب کا ایک بڑا نام ہے۔ لوگوں نے انہیں اس طرح یاد کیا کہ نام تو یاد رکھا لیکن ان کے کاموں سے کوئی واسطہ نہ رکھا۔

نسّاخ کلاسیکی طرز و اسلوب کے ممتاز شاعر تھے۔ ڈاکٹر فرمان فتح پوری نے لکھا ہے، ’’ان کا تعلق چوں کہ برصغیر کے اس پوربی خطے سے تھا جو اس زمانے کے ادبی مراکز مثلاً لکھنو دلّی اور رام پور وغیرہ سے بہت دور واقع تھا اور ان مرکزوں کے اکثر ادباء و شعراء بربنائے معاصرانہ چشمک یا احساسِ برتری دور دراز خطّوں کے ادیبوں اور شاعروں کو کچھ زیادہ اہمیت نہ دیتے تھے۔ اس لیے عبدالغفار نسّاخ جیسے باکمال شخص کو بھی بروقت وہ شہرت میسر نہ آئی جس کے وہ مستحق تھے۔‘‘

بقول ٹی- ایس- ایلیٹ شاعر کی پہچان یہ ہے کہ نظم کے ساتھ ساتھ نثر پر بھی قدرت رکھتا ہو۔ اس لحاظ سے نسّاخ اپنے عہد کے دوسرے شاعروں کے مقابلے زیادہ بڑے شاعر اور ادیب تھے۔ انہوں نے جہاں شاعری کی وہاں نثر بھی لکھی۔ اور یہی نہیں کہ صرف نثر میں دو چار مضامین اور ایک آدھ کتابوں پر اکتفا کیا یا چند خطوط کی شکل میں اپنی جولانیٔ طبع کا مظاہرہ کیا بلکہ سوانح عمری’تذکرہ نگاری‘ ادبی معرکہ آرائی اور علم و نجوم سے بھی اپنی واقفیت کا احساس دلایا۔چنانچہ ڈاکٹر فرمان فتح پوری نسّاخ کے متعلق فرماتے ہیں:

’’نسّاخ نے اگرچہ اپنے معاصرین کے مقابلے میں بہت کم عمر پائی، پھر بھی صرف ستاون سال کی عمر میں انہوں نے تالیف و تصنیف کا جو گراں قدر سرمایا یادگار چھوڑا، وہ معیار و مقدار، کسی اعتبار سے بھی دوسروں سے کم نہیں ہے۔‘‘

بلاشبہ تصانیف و تالیف اور جدید زبان و علوم کے پیشِ نظر عبدالغفار نسّاخ اپنے ہم عصروں میں ممتاز تھے۔

عبدالغفور نسّاخ 1834ء میں کلکتہ (کولکتہ) میں پیدا ہوئے اور 1889ء میں کلکتہ ہی میں انتقال بھی کیا اور یہیں سپردِ خاک ہوئے۔ تعلیم کے بعد ملازمت وہ بھی ڈپٹی کلکٹر جیسے ذمہ دار عہدے پر فائز ہوئے۔ اور ملازمت کی وجہ سے شہر بہ شہر گھومتے پھرتے رہے۔ ایسے میں نسّاخ نے نہ صرف شاعری کی بلکہ جرأتِ اظہار کا مظاہرہ کرتے ہوئے زبان و بیان اور لسانیاتی معرکہ آرائی، وہ بھی اہلِ زبان سے کی، کثرت سے شاگرد بھی بنائے اور یہی نہیں بلکہ نظم و نثر میں تقریباً 2 درجن کتابیں بھی تصنیف و تالیف کیں۔

نسّاخ کا طرّۂ امتیاز یہ تھا کہ وہ اردو کے ایسے شاعر و ادیب تھے کہ جو اپنے عہد کے جملہ ادباء و شعراء سے زیادہ نہ صرف نظم و نثر میں تصنیف و تالیف کرنے والے فن کار تھے بلکہ مختلف النّوع موضوعات پر بہ یک وقت طبع آزمائی کی قدرت رکھتے تھے۔ اس لیے بلاشبہ ان کے متعلق یہ کہا جاسکتا ہے، فورٹ ولیم کالج نے اگر سرکاری سطح پر اردو زبان و ادب کی خدمت کی ہے تو عبدالغفور نسّاخ نے اپنے محدود ذرائع کے باوجود تنِ تنہا بڑے ذوق و شوق اور انہماک کے ساتھ اردو زبان و ادب کے شجر کو اپنے خونِ جگر سے سینچا ہے۔

نسّاخ کی شاعری کی بات کی جائے تو ’’دفترِ بے مثال‘‘ جو ان کا پہلا اردو دیوان ہے اور جس میں انہوں نے غزلیں لکھنوی طرز میں تخلیق کی ہیں اور اردو دنیا کو یہ بتانا چاہا ہے کہ اردو کے مرکزی خطّے سے دور دراز علاقہ میں رہ کر بھی انہیں اردو پر اتنی قدرت حاصل ہے کہ وہ اہلِ زبان کی، زبان میں اشعار کہنے کی نہ صرف استعداد رکھتے ہیں بلکہ اہلِ زبان کی فنی خامیوں پر نشان دہی بھی کرسکتے ہیں۔ ’’دفترِ بے مثال‘‘ کی اشاعت پر غالب نے جس طرح کی تعریف و توصیف کی وہ قابلِ بیان ہے۔ غالب کبھی دیوانِ نسّاخ پر تبصرہ کرتے ہیں اور کبھی ان کے روبرو ہو کر اپنے اشعار پیش کرتے ہوئے اپنے فن کا جائزہ لیتے ہیں، یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ دراصل غالب نسّاخ کے فن اور خدمتِ شعر و سخن سے بے حد متاثر تھے۔ وہ جانتے تھے کہ نسّاخ ایک خاندانی بنگالی نژاد ہونے کے باوجود اردو زبان کے فروغ میں بے لوث خدمت انجام دے رہے ہیں اور فن شناس بھی ہیں۔

نسّاخ کا دوسرا دیوان ’’اشعارِ نسّاخ‘‘ مطبوعہ 1874ء بھی اگرچہ لکھنوی طرز کی غزلوں پر مشتمل ہے لیکن اس میں انہوں نے چند رباعیاں بھی شامل کردی ہیں۔

نسّاخ کی زود گوئی بلا کی تھی جو انہیں چین لینے دیتی تھی۔ لہٰذا لکھنوی طرز پر مذکورہ بالا دونوں دواوین شائع کرنے کے بعد انہوں نے طرزِ دہلی پر غزلیں لکھنے کا ارادہ کیا اور سو، سوا سو غزلیں کہہ کر’’ارمغان‘‘ کے نام سے اپنا تیسرا دیوان نظامی پریس آگرہ سے شائع کیا جس میں ان کی مشہور غزل بھی ہے جس کا مطلع ہے:

نہ دیا دل اسے جو ظلم پہ مائل نہ ہوا
اس کو چاہا نہ کبھی مجھ سے جو غافل نہ رہا

نثر میں نسّاخ کا ایک بہت بڑا کارنامہ ان کی تذکرہ نگاری ہے۔ ’’سخن شعراء‘‘ کے عنوان سے نسّاخ نے 2 ہزار 487 شعراء اور 39 شاعرات کے تذکرے کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے۔ نسّاخ سے پہلے عموماً فارسی شاعروں کے تذکرے میں لکھے جاتے تھے۔ میر نے فارسی اور اردو شاعروں کا تذکرہ لکھا اور مرزا علی لطف نے پہلی بار اردو شاعروں کا تذکرہ اردو میں قلم بند کیا جب کہ نسّاخ نے گویا انہیں کی تقلید کی لیکن اس میں اتنا اضافہ ضرور کیا کہ اس میں اہلِ بنگال کے کئی شاعروں کے ساتھ ساتھ شاعرات کا بھی ذکر کر دیا اور ان شعراء کے تذکرے بھی شامل کردیے جو اب تک پردۂ گمنامی میں تھے۔

’’انتخابِ نقص‘‘ بھی نسّاخ کی ایک اہم تصنیف ہے اور جس کے جواب میں اہلِ لکھنؤ کے ساتھ جو ادبی معرکہ آرائیاں ہوئیں وہ اپنی جگہ لیکن اس سے ان کی جرأتِ اظہار کے ساتھ ساتھ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اگر بنگال میں اردو تنقید کی تاریخ لکھی جائے گی تو میرے خیال میں اس کا نقطۂ آغاز یہی کتاب ’’انتخابِ نقص‘‘ قرار پائے گی۔

(ڈاکٹر علی عرفان نقوی کے ادبی تحقیقی مضمون سے اقتباسات)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں