محسوس ہوتا ہے ہماری ڈور بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے، رضاربانی

سابق چیئرمین سینیٹ اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے سینئر رہنما رضا ربانی نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے متعلق بل کی منظوری پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ محسوس ہوتا ہے ہماری ڈور بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے۔

سینیٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے رضا ربانی نے کہا کہ پارلیمان کی عزت و عظمت آج بھی موجود ہے، اپنی جماعت پر نظر ڈالی تو نظر آیا کہ ایک وقت میں پیپلز پارٹی کی نمائندگی ذوالفقار علی بھٹو کرتا تھا۔

قومی اسمبلی میں شور شرابے کے دوران ایف اے ٹی ایف سے متعلق 2 بلز منظور

انہوں نے کہا کہ آج مجھ جیسا شخص جس کے ہاتھ اور گلے میں ڈوری ہے، وہ پارلیمان میں بیٹھا ہے، فرق اداروں میں نہیں بلکہ ہم میں ہے، پارلیمان ایک عظیم ادارہ ہے۔

رضا ربانی کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت پارلیمنٹ بالادست ہے، ہماری پارلیمنٹ نے تاریخی فیصلے کیے، ان فیصلوں سے قوم اور وفاق کو مضبوط کیا گیا۔

پارلیمنٹ کے تقدس پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضیا الحق اور پرویز مشرف کی آمریت کے خلاف سینیٹ کھڑی رہی، آج سوچ رہا ہوں کہ اب پارلیمان کو کیا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ محسوس ہوا کہ پارلیمان کو کھینچا گیا، محسوس ہوا کہ ہاتھ، پاؤں اور گردن پر ڈوریاں ہیں۔

سابق چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ افسوس کی بات ہے کہ میں کٹھ پتلی کی طرح ہاتھ پیر ہلاتا ہوں جبکہ ڈور کہیں اور سے کھینچی جاتی ہے۔

حکومتی آرڈیننس پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جس شخص کے لیے یہ آرڈینس آیا وہ بھارتی جاسوس اور دہشت گرد ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکمران اشرافیہ نے میری ڈور کھینچی اور عدالت کے متوازی نظام کھڑا کر دیا، میں نے ملٹری کورٹ کی صورت میں بل پاس کر دیا۔

اپوزیشن نے ایف اے ٹی ایف پرقانون سازی کیلئے نیب قوانین میں ترامیم کی شرط رکھی، وزیر خارجہ

پارلیمنٹ سے پاس ہونے والے بلوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے کہا گیا کہ مدت میں توسیع کا بل پاس کرو، چلو تب تو ایک پاکستانی میری ڈوری ہلارہا تھا لیکن اب محسوس ہوتا ہے کہ میری ڈور بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس آرڈیننس کے ذریعے ملٹری کورٹس پر نظر ثانی کا راستہ ہائی کورٹ کے ذریعے دیا جا رہا ہے، اگر پشاور ہائی کورٹ ملٹری کورٹ کے فیصلے کو ختم کرتا ہے تو اس پر حکم امتناع آجاتا ہے۔

رضاربانی کا کہنا تھا کہ دوہرے معیار کی باتیں سنی تھیں، دو دہشت گردوں کے لیے مخلتف معیار کیوں ہیں، ایک کو سہولت دی جا رہی ہے جبکہ دوسرے کو عدالت نے جو سہولت دی تو روکا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف بل پاس کیا گیا، بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر پاکستان کے شہریوں کے آئینی اور بنیادی حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور ایف اے ٹی ایف کے ذریعے جبکہ دوسرا کووڈ 19 کے ذریعے اور میں تو ڈوریوں میں بندھا ہوا ہوں۔

سابق چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ میری ڈوری پھر ہلائی جائے گی اور میں رقص کرنے لگوں گا۔

خیال رہے کہ آج قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپوزیشن اور حکومتی بینچز کی جانب سے سخت شور شرابے کے باوجود حکومت نے ایف اے ٹی ایف سے متعلق 2 بل ایوان سے منظور کروالیے تھے۔

قومی اسمبلی میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی گزشتہ روز کی طویل تقریر کے جواب میں خواجہ آصف کی تقریر کے بعد ہونے والے شور کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی نے ایف اے ٹی ایف سے متعلق 2 بل انسداد دہشت گردی (ترمیمی) بل 2020 اور اقوامِ متحدہ (سیکیورٹی کونسل) (ترمیمی) بل 2020 پر ووٹنگ کروائی اور کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔

سینیٹ میں وفاقی وزیر قانون و انصاف فروغ نسیم نے کہا کہ ایسی باتیں کی گئیں کہ عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) کا فیصلہ نہ مانتے تو بھارت سیکیورٹی کونسل میں ہمارے خلاف قرارداد لاتا، جو درست نہیں۔

اپوزیشن نے نیب آرڈیننس میں 35 ترامیم تجویز کیں، جو ممکن نہیں، وزیر خارجہ

فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ یہ بات کی گئی کہ ہماری ڈوریاں ہلائی جا رہی ہیں، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی شرائط دوسرے ممالک کے لیے بھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آرڈیننس میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو کوئی سہولت نہیں دی جا رہی۔

وزیرقانون نے کہا کہ ملسم لیگ (ن) کی حکومت نے عالمی عدالت میں کلبھوشن کا کیس لڑا، درست فیصلہ کیا اور ہم وہی مقدمہ تقریباً جیت کر نکلے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے وہی کیا جو مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اس وقت کیا تھا۔