سائنسدان 10 کروڑ سال سے بے جان جرثوموں کو زندگی کی جانب لانے میں کامیاب

سائنسدانوں نے کامیابی سے سمندر کی تہہ میں ڈائناسور کے عہد سے موجود جرثوموں کو ایک بار پھر زندگی کی جانب لانے میں کامیابی حاصل کی ہے، جس کے بعد یہ جاندار غذا کے استعمال کے ساتھ ساتھ اپنی تعداد بھی بڑھانے لگے ہیں۔

اس تحقیق میں زمین کے ابتدائی جانداروں کی بقا کی حیران کن طاقت پر روشنی ڈالی گئی ہے، جو کروڑوں سال سے بغیر آکسیجن یا غذا کے بغیر زمین کی گہرائی میں دبے رہے اور اب لیبارٹری میں انہیں زندگی کی جانب لایا گیا۔

جاپان ایجنسی فار میرین۔ ارتھ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی تحقیقی ٹیم نے جنوبی بحرالکاہل کی تہہ کے 10 کروڑ سال سے زائد عرصے پرانے نمونوں کا تجزیہ کیا۔

یہ خطہ دیگر حصوں کے مقابلے میں کم غذائی مقدار کی بنا پر جانا جاتا ہے اور اسی یہ زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے مثالی مقام نہیں سمجھا جاتا۔

تحقیقی ٹیم نے ان نمونوں میں موجود کروڑوں سال سے بے حرکت جرثوموں کو باہر نکالا اور حیران کن طور پر لگ بھگ تمام جاندار ایک بار پھر زندگی کی جانب لوٹ آئے۔

تحقیقی ٹیم کے قائد یوکی مورونو نے بتایا ‘جب میں نے انہیں دریافت کیا، تو پہلے تو یہ شبہ ہوا کہ یہ دریافت کسی قسم کی غلطی یا تجربے کی ناکامی کا نتیجہ ہے’۔

انہوں نے کہا ‘مگر اب ہم جانتے ہیں سمندری کی تہہ میں پائے جانے والے ان جرثوموں کی عمر کی کوئی حد نہیں’۔

تحقیقی ٹیم میں شامل یو آر آئی گریجویٹ اسکول آف اوشینو گرافی کے پروفیسر اسٹیون ڈی ہونڈٹ کا کہنا تھا کہ یہ جرثومے سمندری تہہ کے قدیم ترین حصوں میں کھدائی میں دریافت ہوئے۔

انہوں نے بتایا ‘یہ اب تک کہ قدیم تریم نمونے تھے جن کی ہم نے کھدائی کی، جہاں غذا کی مقدار انتہائی کم تھی، مگر پھر بھی وہاں زندہ جرثومے بے حس و حرکت موجود تھے، پھر وہ بیدار ہوئے، نشوونما پائی اور اپنی تعداد بڑھانے لگے’۔

ان کے مطابق سمندری تہہ کے جرثوموں میں توانائی کی سطح زمین پر پائے جانے والے جرثوموں سے لاکھوں گنا کم ہے۔

توانائی کی اتنی کم سطح کو دیکھتے ہوئے یوکی مورونو کا کہنا تھا کہ یہ ایک معمہ ہے کہ سمندری تہہ کے یہ جرثومے کس طرح خود کو زندہ رکھ پائے۔

اس سے قبل تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا تھا کہ بیکٹریا زمین کے ایسے حصوں میں بھی زندہ رہ پاتے ہیں، جہاں زندگی کے نمو پانے کا امکان بہت کم ہوتا ہے، جن میں زیرسمندر وہ مقام بھی ہیں جہاں آکسیجن نہیں ہوتی۔