اپوزیشن نے ایف اے ٹی ایف پرقانون سازی کیلئے نیب قوانین میں ترامیم کی شرط رکھی، وزیر خارجہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے قومی احتساب بیورو (نیب) قوانین میں ترمیم سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپوزیشن سے تعاون کی درخواست کی اور انہوں نے آمادگی کا بھی اظہار کیا لیکن ان کی آمادگی مشروط تھی اور جو شرط انہوں نے عائد کی وہ یہ تھی کہ اگر ایف اے ٹی ایف پر قانون سازی کرانا چاہتے ہیں تو نیب قانون سے متعلق ہماری ترامیم قبول کریں۔

اسلام آباد میں شہزاد اکبر اور ملیکہ بخاری کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ ہمارا ان سے تقاضہ تھا کہ ہم گفتگو کے لیے تیار ہیں لیکن ایک چیز ہے کہ جس کی قومی نوعیت کی چیز ہے جبکہ دوسری چیز میں ذاتی مفاد ہے لیکن اس کو ڈی لنک کیجئے۔

‘حکومت نے نیب قوانین میں ترامیم کو مسترد کردیا’

انہوں نے کہا کہ ‘اپوزیشن 10 برس حکومت میں رہے اور اس عرصے میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی مل کر نیب قوانین میں ترمیم نہیں کرسکے لیکن وہ حکومت سے 10 گھنٹوں میں توقع کررہے ہیں لیکن پھر بھی ہم نے اپوزیشن کے ساتھ متعدد نشستیں کی’۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اپوزیشن نے نیب قوانین میں 34 ترامیم کا تقاضہ کیا، ہم نے ایک ایک ترمیم پر گفتگو کی اور اس کے بعد نتیجہ یہ نکلا کہ ‘میں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا کر اپوزیشن سے کہا کہ آئیں فاتحہ پڑھ’ لیں۔

وزیر خارجہ نے بتایا کہ ‘نیب قوانین میں اپوزیشن کی پیش کردہ ترامیم کے بعد احتساب کا عمل ختم ہوجاتا ہے بلکہ قانون ہی باقی نہیں رہتا’۔

انہوں نے اپوزیشن کی جانب سے ‘وچ ہینڈنگ’ کے تاثر کو مسترد کردیا۔

شاہ محمود قریشی نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کو مخاطب کرکے کہا کہ ‘پارلیمانی انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہوں گا کہ میں نے رنگ سازی نہیں کی اور آپ ایف اے ٹی ایف کی آڑ میں نیب قوانین میں ترامیم کو پاس کرانے کے کی کوشش کررہے ہیں، آپ رنگ میں بھنگ ملا رہے ہیں’۔

نیب قوانین میں ترمیم کا معاملہ: پارلیمانی کمیٹی بنانے کی منظوری

انہوں نے مزید کہا کہ ‘میں نے قوالی نہیں کی بلکہ پکا راگ سنایا، اور وہ پکا راگ کیا ہے جس کا عمران خان 22 سال سے تذکررہ کررہا ہے’۔

شاہ محمود قریشی نے کرپشن کا ناسور قرار دیتے ہوئے کہا کہ ‘اگر اپوزیشن پاکستان کی خیر خواہ ہے تو اے ایف ٹی ایف اور نیب قوانین میں ترامیم کے معاملے کو علیحدہ علیحدہ کریں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘نیب قوانین پر ترامیم کے حوالے سے مشاورت یا مذاکرات کا بائیکاٹ کس نے کیا؟ قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر کس نے کہا کہ اب کوئی بات نہیں ہوگی’۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ بلیک میل مت کیجئے، یہ حکومت بلیک میل نہیں ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ ‘قومی اسمبلی میں موقع نہیں مل سکا اس لیے ایک بات موجودہ فورم پر واضح کردوں’۔

شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ ‘مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ 2013 میں شاہ محمود قریشی ہمارے پاس آئے تھے، اس کا جواب یہ ہے کہ آپ کی پارٹی کے قائد نواز شریف نے نے بلا کر مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کی دعوت دی تھی اور میں ان سے ملا تھا۔

‘سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نیب کا ادارہ بند کر دینا چاہیے’

ان کا کہنا تھا کہ ‘میں نے نواز شریف کو کہا تھا کہ پیپلز پارٹی چھوڑ دی ہے، مسلم لیگ (ق) اور تحریک انصاف میں شمولیت کا آپشن تھا اور میں عجلت میں کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہتا’۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ‘ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ مسلم لیگ (ن) نے مجھے وزارت خارجہ کی پیشکش کی تھی لیکن میں نے پیشکش قبول نہیں کی’۔

اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان کے مشیر برائے احتساب اور داخلہ امور شہزاد اکبر نے بتایا کہ پاکستان 2018 میں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں داخل ہوا تب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نہیں تھی، فعال ریاست جب مسلسل ناکامیوں اور نااہلیوں کی وجہ بنتی ہیں تب ملک گرے لسٹ میں شامل ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ملک کے حکمران خود اس کام میں ملوث ہوں جس کے انسداد کے لیے عالمی برادری مطالبہ کررہی ہو، وہ کام انسداد کریشن ہے جو آج بھی وجہ تنازع بنا ہوا ہے۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے پہلے ہی ‘میثاق کرپشن’ کیا ہوا تھا، ایف اےٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل ہونے کے دو بڑے اسباب تھے، ایک جعلی اکاؤنٹ کیس جسے پی ٹی آئی نے نہیں بلکہ سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا اور جے آئی ٹی بنی، جس کی سفارشات پر جعلی اکاؤنٹ کیسز بنے۔

محسوس ہوتا ہے ہماری ڈور بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے، رضاربانی

انہوں نے کہا کہ ‘جے آئی ٹی کے انکشاف ملک کے لیے مایوس کن تھے کیونکہ سابق صدر جعلی اکاؤنٹ کیس میں انٹرویو کے دوران پورے اعتماد سے کہتے ہیں کہ پہلے ثابت کرو کہ میں فالودے والے کو لیکر بینک گیا اور اس کا اکاؤنٹ کھلوایا’۔

شہزاد اکبر نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا نام لیے بغیر کہا کہ ‘سابق صدر کے اعتماد کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اداروں کو غیر فعال اور قوانین کو اتنا کمزور کردیا تھا کہ ڈھنکے کی چوٹ پر دعویٰ کرتے تھے’۔

علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ اے ایف ٹی اے کی گرے لسٹ میں شامل ہونے کی دوسری بڑی وجہ شریف خاندان تھا۔

انہوں نے کہا کہ ”سابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف اپنی بیگمات کے لیے ان ہی بینک ٹی ٹیز کے ذریعے مختلف تحائف اور گھر بھی خریدتے رہے’۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ ‘بین الاقوامی فورم اور سپریم کورٹ کی جانب سے نشاندہی کردہ خامیوں کو دور کرنے کی کوشش ہے جس میں انسداد کرپشن و منی لانڈرنگ پر قانون سازی شامل ہے، یہ ذاتی مفاد کے لیے نہیں کیا جارہا’۔