18 وی ترمیم ، آل پارٹیز کانفرنس اور سینہ گزٹ

اس وقت ملک میں آٹھارویں ترمیم کے حوالے سے مختلف سینہ گزٹ چل رہے ہیں ،ہر شخص بھانت بھانت کی بولی بول رہا ہے ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں 10سال قبل 18ویں ترمیم کے حوالے سے سپریم کورٹ کے 17ججز پر مشتمل لارجر بنچ کے سامنے ان پرسن پیش ہوتا رہا اس بنچ کے سربراہ اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری تھے ۔ میں نے اس ترمیم کے حوالے سے درخواست دی جو کہ اس بنچ نے سماعت کے لیے منظور کر لی اس بنچ کے سامنے پیر زادہ صاحب بھی پیش ہوتے رہے میں نے بھی ان پرسن دلائل دیئے منطق کے اعتبار سے اپنا نظریہ پیش کیا اور جو کہنا چاہتا تھا وہ گزارشات لارجر بینچ کے سامنے رکھیں ان کی مہربانی ہے کہ وہ سنتے رہے میں یہاں یہ بتاتا چلوں کہ کچھ اور لوگوں نے بھی درخواستیں دیں تھیں ۔ تاہم میں اس وقت کے فل بینچ کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے ان پرسن سننے کے لیے منظوری دی 18ویں ترمیم کی کلازز کے حوالے سے دلائل دیئے ۔ مستقبل میں پیش آنیوالے مسائل کے حوالے سے بھی گفتگو کی ۔ بہر حال کچھ ججز نے میرے دلائل کو مانا اور کچھ نے اتفاق نہیں کیا ۔ یہ فیصلہ سردار خان نیازی بنام فیڈریشن کے حوالے سے آج بھی سپر یم کورٹ کی ویب ساءٹ پر موجود ہے ۔ محب وطن پاکستانی کے حوالے سے میرا فرض تھا کہ میں 18ویں ترمیم کے حوالے سے سیر حاصل دلائل دوں یہ علیحدہ بات ہے کہ ہمارے حق میں فیصلہ نہ ہو سکا لیکن اس میں خوش آئند بات یہ ہے کہ میرے دلائل کو سنا گیا ۔ جو جو چیزیں کلازز کے حوالے سے میں نے پوائنٹ آءوٹ کیں ۔ آج10سال بعد وہ تمام چیزیں زیر بحث آ رہی ہیں ۔ آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد ہونا اچھی بات ہے لیکن میں یہ بات بتاتا چلوں کہ 18ویں ترمیم کے ختم کرنے کی بات نہیں کر رہا ۔ میں نے 18ویں ترمیم کے حوالے سے جن مسائل اور کلازز کا ذکر کیا وہ آج سامنے آ رہی ہیں ، تعلیم ، صحت وغیرہ کے حوالے سے جو بھی مسائل ہیں 18ویں ترمیم کی کلازز میں مزید اضا فہ یا ترمیم کر کے حل ہو سکتے ہیں ۔ چونکہ سپریم کورٹ کی ویب ساءٹ پر سردار خان نیازی بنام فیڈریشن کا کیس موجود ہے وہاں جا کر اس کی تفصیلات کے بارے میں جانا جا سکتا ہے ۔ ایک چیز اور انتہائی اہم ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس 18ویں ترمیم کے حوالے سے کچھ اور رنگ دے رہی ہے وہ کہتی ہے کہ اگر 18ویں ترمیم کو چھیڑا گیا تو اس سے ملکی سالمیت اور صوبائی خودمختاری کو خطرہ درپیش ہو گا ، یہ ایسا سینہ گزٹ ہے جو سینہ بہ سینہ چل رہا ہے لیکن حقیقت اس کے بر عکس ہے دراصل فیڈریشن نے بھی ملک کے تمام معاملات چلانے ہوتے ہیں جب 18ویں ترمیم میں اتفاق رائے سے متعلقہ تبدیلیاں آ جائیں گی، جن میں سے اکثر کی میں نے آج سے 10سال قبل اس وقت کے لارجر بنچ جو کہ 17ججز پر مشتمل تھا کے سامنے ان پرسن پیش ہو کر نشاندہی کی آج وہی مسائل درپیش ہیں جبکہ وفاق کچھ اور فیصلے کر رہا ہوتا ہے اور صوبائی سطح پر کچھ اور معاملات چل رہے ہوتے ہیں اس ٹکراءو کی وجہ سے ملک کو نقصان پہنچتا ہے اور فیصلوں پر صحیح طرح عمل درآمد نہیں ہو پاتا ، پھر ایک الزام تراشیوں کا پنڈوڑا باکس کھل جاتا ہے لیکن یہ بات قطعی طور پر روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ نا تو یہ کوئی سینہ گزٹ ہے اور نہ ہی کوئی افواہ بلکہ حقیقت یہی ہے کہ 18ویں ترمیم ختم نہیں ہو رہی حکومت اس میں تبدیلی کرا لے گی ۔ اس ترمیم میں جو کلازز درست نہیں ہیں ان میں ترمیم بہت ضروری ہے ۔ اس حوالے سے حکومت بھی کچھ نشاندہی کررہی ہے میں نے بھی ایک محب وطن پاکستانی ہونے کے حوالے سے 10سال قبل جو تاریخ رقم کی تھی آج اس کو ہی دہرایا جارہا ہے ۔ میں یہ کہوں گا کہ میرے لیے کسی اعزاز سے کم بات نہیں کہ 18ویں ترمیم کی کلازز جو امینڈ ہوتی ہیں تو یقینی طور پر اس میں میرا بھی کچھ نہ کچھ حصہ ہو گا اور جب بھی مورخ تاریخ رقم کریگا تو وہ سپریم کورٹ کی ویب ساءٹ پر موجود سردار خان نیازی بنام فیڈریشن کا کیس جو کہ موجود ہے اس کا حوالہ دیئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ پھر یہ بات بھی طے ہے کہ اس ترمیم کی کلازز میں وقت اور حالات کے اعتبار سے تبدیلی ضرور ہو گی اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اس سلسلے میں کامیابی سے ہمکنار ہو گی ۔ آل پارٹیز کانفرنس جو تحفظات جو اس وقت پیش کررہی وہ زرا حقائق سے دور ہے ، وہ یہ بات کیوں نہیں سمجھ پا رہے کہ 18ویں ترمیم ختم نہیں کی جارہی بلکہ اس میں کچھ تبدیلیاں جو ضروری ہیں وہ لائی جارہی ہیں ۔ جو کہ وفاق اور صوبوں کے حوالے سے انتہائی مفید ثابت ہونگی ۔ جبکہ فیڈریشن (وفاق)یعنی کہ ملکی اکائی مضبوط ہو گی تو نہ صرف صوبوں کے مسائل حل ہونگے بلکہ وفاق بھی ملک کا نظم و نسق بہتر انداز میں چلا سکے گا ۔ لہذا اے پی سی کو جانا چاہیے کہ 18ویں ترمیم کی کلازز میں جو تبدیلیاں لائی جانے کی خواہش کی جارہی ہے وہ ملکی سالمیت اور صوبائی خود مختاری کے حوالے سے مثبت نتاءج کی حامل ہونگی ۔