’نقشہ پاس کرانے کی رنجش، بھارت نیپال میں حکومت گرانے کی کوششوں میں مصروف‘

کھٹمنڈو: نیپال کے وزیر اعظم کے پی شرما اولی کا کہنا ہے کہ میری حکومت گرانے کیلئے بھارت میں ملاقاتیں کی جارہی ہیں۔

کیمونسٹ لیڈر مادان بھنڈاری کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پی شرما اولی کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت کے پاس پارلیمنٹ میں اکثریت ہے، گرانے کامنصوبہ فیل ہوگا۔

دی ہندو کے مطابق انہوں نے کہاکہ نیپالی نیشنل ازم کمزور نہیں، ہم نے اپنا نقشہ تبدیل کیا ہے اور اگر اس ملک کا وزیر اعظم معزول کیا جاتاہے تو یہ نیپال کیلئے ناقابل تصور ہوگا۔

نیپالی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ نیپال کا نیا نقشہ جرم ہے ۔آپ نے ضرور سنا ہوگا کہ وزیراعظم 15دن میں تبدیل ہو جائیں گے،اگر مجھے اس وقت ہٹایا جاتاہے تو پھرکوئی بھی نیپال کے حق میں بولنے کی جرات نہیں کرے گاکیونکہ اس شخص کو فوری طور پر ہٹا دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ میں اپنے لئے نہیں بلکہ ملک کیلئے بول رہاہوں ۔ہماری جماعت اس جال میں نہیں پھنسے گی جو کو شش کررہے ہیں انہیں کرنے دیں۔

پشپا کمال دھل کے دھڑے کی جانب سے حکومتی نیپال کیمونسٹ پارٹی کی سٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں وزیر اعظم کو کورونا بارے حکمت عملی پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ،44ارکان پر مشتمل کمیٹی میں وزیراعظم کے مقابل شریک چیئرمین پراچندہ کیساتھ 30ارکان ہیں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اگرچہ پراچندہ وزیراعظم جتنے مقبول نہیں تاہم انہیں اپوزیشن اور مذ ہبی ارکان پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہے۔

ادھر بھارتی صحافی اڈتیا راجکول کے مطابق نیپالی وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت میں میری حکومت کا تختہ الٹانے کی سازش کی جارہی ہے ، اس حوالے سے کھٹمنڈو کے بھارتی سفارتخانے میں بھی اجلاس منعقد کیے جارہے ہیں۔