یاسر نواز نے کورونا نے صحت یابی کے بعد پلازما عطیہ کردیا

معروف اداکار، فلم ساز و پروڈیوسر یاسر نواز، ان کی اہلیہ اداکارہ و میزبان ندا یاسر اور ان کے بیٹے میں گزشتہ ماہ 25 مئی کو کورونا کی تشخیص ہوئی تھی۔

وبا کی تشخیص کے بعد جوڑے نے خود کو قرنطینہ کرلیا تھا اور جوڑا تقریبا 20 دن تک قرنطینہ میں رہا تھا، جس کے بعد انہوں نے دوبارہ ٹیسٹ کروایا تھا جو کہ منفی آیا۔

ندایاسر نے 15 جون کو ہی اپنے مداحوں کو اپنے ٹیسٹ منفی آنے کی خوشخبری بتادی تھی اور وہ اسی دن سے ہی ٹی وی پر اپنا مارننگ شو بھی کرتی دکھائی دیں۔

تاہم انہوں نے یاسر نواز کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا تھا مگر اب یاسر نواز نے بھی کورونا کو شکست دینے کے بعد اپنا بلڈ پلازما عطیہ کردیا۔

اداکار نے انسٹاگرام پر بلڈ پلازما عطیہ کرنے کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے اپنے مداحوں کو بھی ایسا ہی کرنے کی ہدایت کی۔

یاسر نواز نے بتایا کہ ان کا پہلا کورونا ٹیسٹ مثبت اور دوسرا منفی آیا اور وہ انہوں نے قرنطینہ میں احتیاط کے ساتھ اچھے دن گزارے اور اب وہ دوسروں کی مدد کرنے کے لیے اپنا بلڈ پلازما عطیہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے مداحوں سے کہا کہ اگر ان کا کوئی مداح کورونا سے صحت یاب ہوچکا ہے تو وہ اپنا بلڈ پلازما عطیہ کرکے دوسرے بیمار مریضوں کو صحت یاب ہونے میں مدد فراہم کرے۔

خیال رہے کہ کورونا کے شکار شخص کا دوران علاج بلڈ پلازما طاقتور بن جاتا ہے اور صحت یابی کے بعد بلڈ پلازما کورونا کے دوسرے مریضوں کو دیا جاتا ہے، جس وجہ سے وہ جلد صحت یاب بن جاتے ہیں۔

ویڈیو کے دوران یاسر نواز کچھ کمزور دکھائی دیے، تاہم انہوں نے بتایا کہ وہ بلکل ٹھیک ہیں۔

قرنطینہ کے دوران بھی انہوں نے ویڈیوز جاری کی تھیں، جن میں وہ مداحوں کو کورونا سے متعلق احتیاط کرنے کی اپیل کرتے دکھائی دیے تھے۔

اداکار نے قرنطینہ کے دوران اپنی شادی کی 18 ویں سالگرہ کو سادگی سے منانے کی ویڈیو بھی جاری کی تھی۔

ان کی اہلیہ ندا یاسر نے 15 جون کو صحت یابی کے بعد اپنے پہلے مارننگ شو میں بتایا تھا کہ سب سے پہلے ان کے شوہر یاسر نواز بیمار پڑے اور انہیں شدید بخار ہوا تو انہوں نے ڈاکٹر سے رجوع کیا مگر ڈاکٹر نے بھی ابتدائی طور پر بتایا کہ یاسر نواز کو سخت گرمی کی وجہ سے بخار ہوا ہوگا لیکن بعد ازاں ان کورونا کی تشخیص ہوئی۔

اداکارہ کے مطابق کورونا کی تشخیص کے بعد یاسر نواز پریشان ہوگئے اور کہتے رہے کہ اگر ہمیں کچھ ہوگیا تو ہمارے بچوں کا کیا ہوگا اور ان کی ایسی باتوں سے مجھے بھی ذہنی پریشانی ہونے لگی۔

داکارہ نے بتایا کہ اگرچہ ان میں کورونا کی علامتیں نہیں تھیں، تاہم وہ اپنے شوہر کی باتوں کی وجہ سے ذہنی پریشانی کا شکار ہوگئی تھیں، کیوں کہ ان کے شوہر یہ کہتے تھے کہ اگر ہم مر گئے تو ہمارے بچوں کا کیا ہوگا؟