وادی گلوان ہماری ہے، کشیدہ صورتحال کا سراسر ذمہ دار بھارت ہے، چین

چین نے بھارت کے ساتھ سرحدی علاقے وادی گلوان کو اپنی ملکیت قرار دیتے ہوئے گزشتہ دنوں ہونے والی جھڑپ کی تمام تر ذمہ داری بھارت پر عائد کی ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان زاؤ لیجیان نے ہفتہ اور پریس بریفنگ کے دوران اس بات کو دہرایا کہ ’وادی گلوان میں پیش آنے والی سنگین صورتحال کا صحیح اور غلط واضح ہے اور اس کی تمام تر ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے‘۔

خیال رہے کہ 15 جون کو بھارت اور چین کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی جس کے نتیجے میں میں بھارت کے 20 فوجی مارے گئے تھے، یہ 45 سال کے دوران دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان سب سے خونریز جھڑپ تھی۔

ترجمان چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ دونوں فریقین میں صورتحال کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کے لیے رابطے جاری ہیں۔

چین وادی گلوان کے حوالے سے بلند و بانگ دعوؤں سے گریز کرے، بھارت کا انتباہ

ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چین بھارت کے ساتھ تعلق کو اہمیت دیتا ہے اور امید کرتا ہے کہ دو طرفہ تعلقات کی طویل المعیاد ترقی کے وسیع تناظر میں بھارت چین کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔

علاوہ ازیں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ وادی گلوان چین اور بھارت کی سرحد کے مغرب میں لائن آف ایکچووَل کنٹرول (ایل اے سی) پر چینی علاقے میں واقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ برسوں سے چینی فوجی دستے اس خطے میں گشت اور فرائض انجام دیتے رہے ہیں تاہم اپریل سے بھارتی سرحدی اہلکاروں نے وادی گلوان میں یکطرفہ طور پر سڑکیں، پل اور دیگر سہولیات تعمیر کرنی شروع کردی تھیں۔

جس پر چین نے متعدد مواقعوں پر احتجاج ریکارڈ کروایا تھا لیکن بھارت لائن آف ایکچوول کنٹرول عبور کرنے کے مزید آگے بڑھ گیا اور اشتعال انگیزی کی۔

بھارت اور چین سرحد پر امن بحال کرنے پر متفق

انہوں نے بتایا کہ بھارتی فوجیوں نے رات گئے ایل اے سی پار کی اور 6 مئی کو علی االصبح چین کے علاقے میں داخل ہو کر رکاوٹیں تعمیر کیں جس سے چینی سرحدہ محافظین کا گشت رک گیا۔

چینی ترجمان کے مطابق انہوں (بھارتی فوجیوں) نے جان بوجھ کر اشتعال انگیزی کی اور یکطرفہ طور پر انتظامیہ اور کنٹرول کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جس پر چینی فوجی جواب دینے پر مجبور ہوئے۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ صورتحال معمول پر لانے کے لیے چین اور بھارت کے مابین فوجی اور سفارتی ذرائع سے روابط جاری تھے اور 6 جون کو کمانڈر کی سطح پر ہوئے اجلاس میں بھی صورتحال معمول پر لانے پر اتفاق ہ
سرحدی علاقے میں چین سے جھڑپ، افسر سمیت 20 بھارتی فوجی ہلاک

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ ’اس کے باوجود حیرت انگیز طور پر بھارتی فوجیوں نے سمجھوتے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر ایل اے سی پار کی اور مذاکرات کے لیے جانے والے چینی فوجیوں اور افسران کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ہاتھا پائی ہوئی جو کئی اموات کا سبب بنی۔

چین اور بھارت سرحدی تنازع
خیال رہے کہ بھارت اور چین کی سرحدیں ہمالیہ میں ملتی ہیں اور دونوں ممالک میں طویل عرصے سے سرحدی تنازع جاری ہے، دونوں ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے رہتے ہیں۔

چین، بھارت کے شمال مشرقی علاقے میں 90 ہزار اسکوائر کلومیٹر کا دعویٰ کرتا ہے البتہ بھارت کا کہنا ہے کہ چین نے مغربی ہمالیہ میں اس کے 38 ہزار اسکوائر کلومیٹر علاقے پر قبضہ کیا ہوا ہے اور اس سرحدی تنازع پر دونوں ممالک کے متعلقہ حکام نے 20 مرتبہ ملاقات بھی کی تھی لیکن کوئی بھی اہم پیشرفت نہ ہو سکی تھی۔

اس کے علاوہ دونوں ممالک میں سرحدی تنازع کی وجہ سے 1962 میں جنگ بھی لڑی جا چکی، چین بھارت کی شمال مشرقی ریاست آندھرا پردیش پراپنا حق تسلیم کرتا ہے، کیوں کہ وہاں تبتی نسل کے افراد کی آبادی زیادہ ہے۔

چین اور بھارت تصادم، بھارتی سرکار کی ہندوتوا سوچ کا کیا دھرا ہے، وزیر خارجہ

حالیہ تنازع کا آغاز مئی میں اس وقت ہوا تھا جب بھارت نے الزام عائد کیا تھا کہ چینی فوجی اس کے ملک کی حدود میں تین جگہ سے داخل ہوئے اور وارننگ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وہاں ٹینٹ گاڑ کر چیک پوسٹ بنا لی۔

اس کے بعد دونوں ملکوں کے فوجیوں کے درمیان ہاتھا پائی، گالم گلوچ اور پتھراؤ کے واقعات رونما ہوتے رہے جس کی ویڈیوز گزشتہ چند ہفتوں میں بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہیں۔

9مئی کو بھارتی اور چینی فوجی اہلکاروں کے درمیان جھڑپ میں ہاتھا پائی ہوئی تھی اور دونوں نے ایک دوسرے پر پتھراؤ بھی کیا تھا جس سے کئی فوجی زخمی ہو گئے تھے۔

مئی سے اب تک دونوں جوہری طاقت کے حامل ملکوں کے درمیان جاری تناؤ میں ہزاروں فوجی دستے آمنے سامنے آ چکے ہیں جس پر ماہرین نے انتباہ جاری کیا تھا کہ کسی بھی قسم کی محاذ آرائی خطے میں ایک بڑے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔

حالیہ کشیدگی کے حوالے سے مبصرین کا کہنا تھا کہ بھارت اور چین کے درمیان ہمالیائی سرحدی تنازع پر کشیدگی بھارت کی نئی سڑکوں اور ہوائی پٹیوں کی تعمیر کی وجہ سے سامنے آئی۔

چینی وزارت خارجہ نے گزشتہ ہفتے ہی بیان میں کہا تھا کہ سفارتی اور فوجی ذرائع کے ذریعے مؤثر روابط کی بدولت حالیہ سرحدی تنازع حل کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے ۔

تاہم اس کے باوجود 17 جون کو ایک جھڑپ کے نتیجے میں بھارت کی جانب سے ایک افسر سمیت 3 فوجیوں کی ہلاکت کا اعلان کیا گیا تھا لیکن بعد ازاں بھارتی فوج نے 20 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کردی گئی تھی۔

تاہم جھڑپ کے دو روز بعد چینی اور بھارتی وزرائے خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ ہوا تھا اور دونوں نے متنازع ہمالیائی سرحد پر امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے موجودہ 2 طرفہ معاہدوں کی پاسداری پر اتفاق کیا تھا۔