یقین سے کہتا ہوں کہ اٹھارہویں ترمیم کو چھیڑا گیا تو وفاق کا بچنا مشکل ہو جائے گا، پی ٹی ایم رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کا قومی اسمبلی میں دھواں دھار خطاب

اسلام آباد(آن لائن) پی ٹی ایم کے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان سے لیکر سوات تک ڈی فارسٹیشن کی گئی اس میں کون ملوث ہے۔فرنٹ لائن سولجر کرونا میں ڈاکٹرز پولیس و دیگر اداروں کے لیے سپیشل الاونس ہونا چاہیے تھالیکن حکومت نے مایوس کیا۔ قومی اسمبلی اجلاس میں بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے پی ٹی ایم کے رکن نے کہا کہ ایوان میں کوئی وزیر نہیں اور ہمارا بولنے کا کیا فائدہ ہے، جس پر سپیکر نے اس بارے میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور سے استفسار کیا تو انہوں نے کہا کہ کہ چند منٹ تک متعلقہ وزیر ایوان میں پہنچ جائیں گے۔محسن داوڑ نے کہا کہ شمالی وزیرستان سے لیکر سوات تک ڈی فارسٹیشن کی گئی اس میں کون ملوث ہے۔فرنٹ لائن سولجر کرونا میں ڈاکٹرز پولیس و دیگر اداروں کے لیے سپیشل الاونس ہونا چاہیے تھالیکن حکومت نے مایوس کیا۔سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواوں میں اضافہ کیا جو کہ قابل ستائش ہے, لیکن یہاں پر سٹیٹ بنک اور خزانہ میں باہر سے لوگ آئے ہیں اور الزام ہے کہ آئی ایم ایف کی ٹیم ہے اس روش کو بھی بدلنا ہو گا کل سابق حکومتوں پر الزام لگانے والے آج خود اس روش پر چل پڑے۔یہاں دیکھا گیا ہے کہ بجلی اور پٹرول کی قیمتیں بڑھا دی جائیں اور یہ ایک فیشن بن گیا ہے ۔ایچ ای سی میں فنانشل کرائسز ہیں انکے حل کیلیے اقدامات کیے جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہاں آن لائن کلاسسز کا اجرا کیا گیا مگر ہمارے سٹوڈنٹس محروم ہیں۔کیا دہشت گردی صرف کے پی کے میں ہے اس حوالہ سے دہشت گردی کے آرکیٹیکٹ کہاں ہیں وزیر پارلیمانی امور بہتر جانتے ہیں۔ علاوہ ازیں دیکھا جا رہا ہے اس حکومت کے لیے سب سے بڑا مسلہ 18ویں ترمیم ہے اور اس ترمیم کو اگر چھیڑا گیا تو میں یقین سے کہتا ہوں کہ پھر وفاق کا بچنا بھی مشکل ہو جائے گا۔دفاع کے بجٹ میں 12فیصد کا اضافہ کیا گیا لیکن ہم کوئی جنگ تو نہیں لڑ رہے بلکہ ایک وبا کا شکار ہیں بہتر ہوتا کہ وہ بجٹ ہیلتھ کو دیدیا جاتا۔فاٹا بجٹ پر تحفظات ہیں یہ الفاالفاظ کا گورکھ ہے۔ٹانک اور دیگر دھرنے کیے گئے مگر جو بجٹ رکھا گیا وہ پورا نہیں دیا گیا سترہ ارب حکومت کے پاس موجود بھی تھے لیکن خرچ نہیں کیا گیا۔48 ارب کو آدھابکر کے اب 24 ارب کر دیا گیا،محسن داوڑ نے مزید کہا کہ طورخم باڈر کو کھولنے کے لیے اقدامات کیے جائیں اور جو پی ایس ڈی پی میں بجٹ رکھا گیا ہے اس کو خرچ بھی ان علاقوں میں کیا جائے۔