کرکٹ آسٹریلیا میں تبدیلی، نِک ہوکلی کو چیف ایگزیکٹیو کی عارضی ذمہ داری دیدی گئی

کینبرا: آسٹریلیا میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ ہو گا یا نہیں، بڑے فیصلے سے پہلے بڑی انتظامی خبریں آنے لگیں، اچانک مستعفی ہونے والے چیف ایگزیکٹیو کیون روبرٹس کی جگہ نِک ہوکلی کو عارضی ذمہ داری دے دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق چھوٹے فارمیٹ کا بڑا ایونٹ رواں سال اکتوبر میں آسٹریلیا میں شیڈول ہے، کورونا وائرس تباہ کاریوں کے باعث ایونٹ کے انعقاد پر سوالیہ نشان ہیں لیکن کرکٹ آسٹریلیا میں بڑی تبدیلی آ گئی۔

کیون روبرٹس نے بطور چیف ایگزیکٹیو کے عہدے سے اچانک استعفیٰ دے دیا جس کے بعد فوری طور پر ذمہ داریاں نِک ہوکلی کو سونپ دی گئیں۔

نِک ہوکلی کو تین ماہ قبل ایم سی جی میں ویمن ورلڈکپ فائنل کا کامیاب انعقاد کرایا جس میں ریکارڈ چھیاسی ہزار تماشائیوں نے انٹری ڈال کر ایونٹ کو یادگار بنایا تھا۔

دوسری طرف کرکٹ آسٹریلیا کے چیئرمین ایرل ایڈنگز نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران رواں برس آسٹریلیا میں ٹی ٹوئںٹی ورلڈ کپ کا انعقاد غیرحقیقی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کا کہنا ہے ٹی ٹوئںٹی ورلڈ کپ شیڈول کے مطابق رواں برس 18 اکتوبر سے 15 نومبر تک آسٹریلیا میں کھیلا جانا ہے اور اس سے قبل حکام کا کہنا تھا کہ وہ ان تاریخوں میں ایونٹ کے انعقاد کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

چیئرمین کرکٹ آسٹریلیا نے منگل کو بتایا کہ کورونا وائرس اور سفری پابندیوں کی وجہ سے کئی بین الاقوامی بارڈرز ابھی تک بند ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایونٹ کے انعقاد کا امکان تیزی سے کم ہو رہا ہے۔

رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابھی تک رواں برس ہونے والے ورلڈ کپ کو باضابطہ طور پر منسوخ یا ملتوی نہیں کیا گیا، موجودہ صورت حال میں 16 ٹیموں کو آسٹریلیا بلانا جہاں بیشتر ممالک میں کووڈ 19 تیزی سے اوپر جا رہا ہے، میرا خیال ہے کہ یہ غیر حقیقی ہے، یا یہ بہت زیادہ مشکل ہو جائے گا۔

ایرل ایڈنگز کا کہنا ہے کہ کرکٹ آسٹریلیا نے اس حوالے سے آئی سی سی کے سامنے کئی ایک آپشنز رکھے ہیں۔ آئی سی سی ہمارے آپشنز پر اجلاس منعقد کر رہی ہے، اس ایونٹ کا رواں برس انعقاد ایک طرح سے ہوتا نظر نہیں آ رہا۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے چیف ایگزیکٹو نِک ہوکلے جنہوں نے منگل کو کرکٹ آسٹریلیا کے عبوری چیئرمین کا عہدہ سنبھالا نے کہا ہے کہ وہ توقع کر رہے ہیں کہ آئی سی سی اس ٹورنامنٹ کے بارے میں آئندہ ماہ فیصلہ کرے گی۔

اس حوالے سے زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ یہ ایونٹ آئندہ سال کے لیے ری شیڈول ہو جائے، تاہم اس کا دارومدار وبا کی صورت حال اور پھر مصروف کیلنڈر میں ٹورنامنٹ کے لیے جگہ بنانے پر ہے۔