معروف ٹی وی میزبان طارق عزیز انتقال کرگئے

دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو طارق عزیز کا خداحافظ جیسے ڈائیلاگ سے شہرت پانے والے پاکستان کے معروف ٹی وی میزبان، اداکار اور سیاستدان طارق عزیز 84 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔

وہ 1936 میں بھارت کے شہر جالندھر میں پیدا ہوئے تھے جہاں سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے ریڈیو پاکستان، لاہور سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا۔

انہیں پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی ) کے پہلے اینکر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

انہوں نے 1974 میں پی ٹی وی پر نیلام گھر کے نام سے کوئز پروگرام کی میزبانی بھی کی جو 4 دہائیوں تک جاری رہا، اس پروگرام کو بعد ازاں اسے بزم طارق عزیز کا نام دیا گیا تھا۔ طارق عزیز1997سے1999 تک رکن قومی اسمبلی بھی رہے اور انہیں 1992 میں فنی خدمات پر پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا۔

انہوں نے اپنے پروگرام میں دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو طارق عزیز کا خداحافظ جیسےڈائیلاگس سے عالمی شہرت پائی۔

نجی چینل اے آر وائے پر طارق عزیز کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے معروف اداکار جاوید شیخ نے ان کے بلند درجات کے لیے دعا کی۔

علاوہ ازیں معروف اداکار بہروز سبزواری نے طارق عزیز کو انے اساتذہ میں سے ایک قرار دیا اور کہا کہ ان کو پی ٹی وی کی پہلی اناؤنسمنٹ کا اعزاز حاصل تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا طارق عزیز کی شخصیت بہت ہما جہت تھی اور ان کا کوئی متبادل نہیں ان کی وفات سے بہت بڑا خلا پیدا ہوگیا۔

بہروز سبزواری نے بھی ان کے بلند درجات اور مغفرت کی دعا کی اور کہا کہ ایک سفر کے دوران وہ میرے ہمراہ تھے جب انہوں نے بہت سی آیات ترجمے کے ساتھ بتائیں۔

نجی ٹی وی اے آر وائے سے گفتگو کرتے ہوئے معروف اداکار غلام محی الدین نے کہا کہ طارق عزیز اپنی مثال آپ تھے، پوری انڈسٹری میں ان کوئی نہیں اور جو اعزازات انہیں ملے وہ کسی کے حصے میں نہیں آئے۔

غلام محی الدین نے کہا کہ طارق عزیز کے پروگراموں میں ان کا ادبی ذوق جھلکتا تھا اور انہیں 2 ہزار کے قریب اشعار یاد تھے۔

امستصنر حسین تارڑ نے کہا کہ طارق عزیز ٹیلی ویژن پر دبستان کی حیثیت رکھتے تھے وہ شاعری بھی بہت عمدہ کیا کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی سب سے بڑی خوبی پاکستان سے محبت کرنا ہے وہ دوسروں کی طرح نعرے نہیں لگاتے تھے بلکہ وطن کی محبت ان کے اندر سے کونپل کی طرح پھوٹتی تھی۔

معروف ادیب کا مزید کہنا تھا کہ طارق عزیز خوش کلام، خوش گفتار اور بے بہا خوبیوں کے مالک تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ میں ان کی شرافت اور حب الوطنی کا قائل تھا ان میں میڈیا والے فریب نہیں پائے جاتے تھے وہ معصوم شخصیت تھے۔