دسمبر 2019 میں چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والی کورونا کی وبا نے 15 جون کی دوپہر تک اگرچہ پاکستان میں ایک لاکھ 44 ہزار478 افراد کو متاثر کیا تھا اور اس سے محض 2729 اموات ہوئی تھیں۔

تاہم برطانیہ کے معروف امپیریل کالج نے اپنے حالیہ منصوبے میں پاکستان میں کورونا سے متعلق حیران کن تخمینے دیتےہوئے انکشاف کیا ہے کہ اگست 2020 کے وسط میں پاکستان میں ایک دن میں کم از کم 80 ہزار اور زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ لاکھ افراد وبا کے باعث زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

امپیریل کالج لندن نے برطانوی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ فنڈز سے متعدد اداروں اور ماہرین کے ساتھ ایک الگورتھم منصوبے کے تحت پاکستان سمیت متعدد ممالک میں کورونا سے متعلق تخمینوں کی رپورٹ مرتب کی۔

آن لائن جاری کیے گئے منصوبے میں پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش، برازیل، بھارت، انڈونیشیا، ملائیشیا، روس، انڈونیشیا، شام اور ترکی سمیت درجنوں ممالک سے متعلق اندازوں پر مبنی حیران کن اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں۔مذکورہ منصوبے کے تحت کم اور متوسط آمدنی والے ممالک کے کورونا سے متعلق اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں۔اس منصوبے میں امریکا، برطانیہ، جرمنی، فرانس، اٹلی، اسپین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) جیسے ممالک کو شامل نہیں کیا گیا۔

مذکورہ منصوبہ الگورتھم اور مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) کی مدد سے تمام ممالک میں جون کے پہلے ہفتے تک تصدیق ہونے والے کیسز کے مطابق بنایا گیا۔

الگورتھم منصوبے کے تحت 2 طرح کے 6 اقسام کی رپورٹس تک صارفین کو رسائی دی گئی ہے۔

منصوبے کو ورژن ون اور ورژن ٹو کے نام سے 6 اقسام میں تیار کیا گیا ہے اور منصوبے کی تمام اقسام مختلف اعداد و شمار اور تخمینے فراہم کرتی ہیں۔

منصوبے کے ورژن ون کے الگورتھم تخمینوں کے مطابق پاکستان میں کورونا کی وبا اگست 2020 کے وسط تک اپنے عروج پر پہنچ چکی ہوگی اور ملک میں سب سے زیادہ اموات 10 اگست کو ہوں گی جو کہ ڈیڑھ لاکھ سے بھی زائد ہوں گی۔

اسی طرح ورژن ٹو کے الگورتھم تخمینوں میں بھی پاکستان میں اگست میں کورونا کی وبا کے عروج پر پہنچنے کے تخمینے لگائے گئےہیں اور 10 اگست 2020 کو سب سے زیادہ یعنی 77 ہزار تک اموات ہوں گی۔